امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے منصورہ میں مختلف بار ایسوسی ایشنز اور بزنس فورم کے عہدیداروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کا نظامِ انصاف ایک تعفن زدہ لاش بن چکا ہے اور آئین و قانون کی بالادستی کے بغیر ملک آگے نہیں بڑھ سکتا۔
انہوں نے کہا کہ مرضی کی ترامیم کے ذریعے آئین کا حلیہ بگاڑ دیا گیا ہے اور عدلیہ سمیت پورے نظامِ انصاف کو تباہ کر دیا گیا ہے، جہاں امیر انصاف خرید لیتا ہے اور غریب عمر بھر عدالتوں کے دھکے کھاتا ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے زور دیا کہ آئین کے ساتھ کھلواڑ کرنے والے اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں اور اقتدار پر مافیاز کا قبضہ ہوچکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں احتساب کا کوئی نظام موجود نہیں، ٹیکس کا سارا بوجھ غریب، کسان اور تنخواہ دار طبقے پر ہے جبکہ سرمایہ داروں اور جاگیر داروں کو کوئی پوچھنے والا نہیں۔
انہوں نے ایف بی آر کی کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ غریب عوام سے روزانہ پیٹرول لیوی کی مد میں کروڑوں روپے بٹورے جا رہے ہیں۔
انہوں نے وکلاء برادری سے اپیل کی کہ وہ عدلیہ کی آزادی اور آئین کی بحالی کے لیے جماعت اسلامی کی "بدل دو نظام" تحریک کا ساتھ دیں۔