گرمیوں کے آغاز کے ساتھ ہی گھریلو امور میں کئی مسائل جنم لینے لگتے ہیں جن میں سب سے عام شکایت دودھ کا جلد خراب ہو جانا ہے جو نہ صرف روزمرہ معمولات کو متاثر کرتا ہے بلکہ مہنگائی کے اس دور میں مالی نقصان کا باعث بھی بنتا ہے۔
اکثر دیکھا گیا ہے کہ صبح خریدا گیا تازہ دودھ چند ہی گھنٹوں میں پھٹ جاتا ہے جس سے صارفین کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، خاص طور پر ایسے گھروں میں جہاں دودھ کا استعمال روزانہ کی بنیاد پر زیادہ ہوتا ہے۔
ماہرین کے مطابق زیادہ درجہ حرارت میں بیکٹیریا کی افزائش تیزی سے ہوتی ہے، جو دودھ کو خراب کرنے کی بنیادی وجہ ہے۔ اگر دودھ کو زیادہ دیر تک کھلا چھوڑ دیا جائے یا غیر صاف برتن میں رکھا جائے تو اس کے خراب ہونے کے امکانات مزید بڑھ جاتے ہیں۔
دودھ کو زیادہ دیر تک محفوظ رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ اسے اچھی طرح ابال کر فوری طور پر ٹھنڈا کیا جائے اور پھر فریج میں رکھ دیا جائے۔ ابالنے کے بعد دودھ کو کمرے کے درجہ حرارت پر چھوڑ دینا ایک عام غلطی ہے، جو اس کے جلد خراب ہونے کا سبب بنتی ہے۔
مزید برآں دودھ کو ہمیشہ ڈھانپ کر رکھنا چاہیے اور استعمال کے دوران صاف چمچ یا برتن کا استعمال کیا جانا ضروری ہے کیونکہ معمولی سی آلودگی بھی دودھ کو خراب کر سکتی ہے۔
گھریلو سطح پر ایک آسان طریقہ یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ دودھ ابالتے وقت اس میں تھوڑی مقدار میں چینی شامل کر دی جائے جس سے دودھ نسبتاً زیادہ دیر تک تازہ رہ سکتا ہے اور اس کے ذائقے میں بھی کوئی نمایاں فرق نہیں آتا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ان سادہ احتیاطی تدابیر پر عمل کیا جائے تو گرمیوں کے موسم میں بھی دودھ کو زیادہ دیر تک محفوظ رکھا جا سکتا ہے اور غیر ضروری نقصان سے بچا جا سکتا ہے۔