لاہور: پاکستان سپر لیگ میں ابھرتے ہوئے نوجوان کرکٹرز سمیر منہاس اور عرفات منہاس کے والد نے اپنے بیٹوں کی کامیابی کے پیچھے چھپی طویل جدوجہد، محنت اور قربانیوں کی داستان بیان کر دی۔
پاکستان سپر لیگ کے سرکاری سماجی رابطہ پلیٹ فارم پر شیئر کی گئی ویڈیو میں سمیر اور عرفات کے والد نے بتایا کہ بچوں کا کرکٹ سے شوق بچپن ہی سے نمایاں تھا۔
انہوں نے کہا کہ دونوں بھائی گھر میں پلاسٹک کے انڈے سے کھیلتے تھے اور وقت کے ساتھ ان کے کھیل میں نکھار آتا گیا۔ ان کے مطابق بچوں کی آنکھوں میں گیند کو سمجھنے، شاٹس کھیلنے اور ڈرائیو کرنے کی غیر معمولی صلاحیت دیکھ کر انہیں یقین ہو گیا تھا کہ ان میں خاص صلاحیت موجود ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اسی اعتماد کے ساتھ بچوں کو باقاعدہ میدان میں لے جایا گیا، جہاں ان کی تربیت کا آغاز کیا گیا اور بعد ازاں انہیں کلب کرکٹ میں شامل کروایا گیا۔
مزید بہتری کے لیے انہوں نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے سطح دوم کے کوچ طاہر محمود فیض کی خدمات حاصل کیں جن کی رہنمائی نے بچوں کی صلاحیتوں کو جِلا بخشی اور انہیں اس مقام تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔
والد نے اپنی جدوجہد بیان کرتے ہوئے کہا کہ انہیں متعدد چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا، خاص طور پر کاروباری مصروفیات کے باوجود بچوں کے میچز کے لیے طویل سفر کرنا پڑتا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ وہ کئی بار ملتان سے دور دراز علاقوں تک بچوں کو میچز کے لیے لے کر جاتے اور واپس لاتے تھے۔ اس تمام سفر میں ان کی اہلیہ نے بھی بھرپور ساتھ دیا اور دونوں میاں بیوی گھنٹوں گراؤنڈ میں بیٹھ کر بچوں کے میچز دیکھتے رہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ جب بچوں کا انتخاب ریجنل سطح پر ہوا تو وہ ان کے ساتھ قیام کرتے، ان کی دیکھ بھال کرتے اور ہر مرحلے پر ان کی حوصلہ افزائی جاری رکھتے۔ ان کے مطابق عرفات بچپن میں زیادہ شرارتی تھے جبکہ سمیر نسبتاً سنجیدہ اور پرسکون طبیعت کے حامل تھے۔
والد کا کہنا تھا کہ انہوں نے بچوں کی تعلیم، خوراک اور کھیل کے لیے باقاعدہ نظام الاوقات ترتیب دیا تاکہ وہ مستقبل میں طویل کرکٹ کیریئر کے لیے تیار ہو سکیں۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ دونوں بیٹے اپنی موجودہ کارکردگی کو برقرار رکھتے ہوئے جلد پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔
انہوں نے اپنی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کے بیٹے ملک کو خوشیاں دیں اور کرکٹ کے میدانوں سے دور ہونے والے شائقین دوبارہ اس کھیل کی طرف راغب ہوں۔