فارن فنڈنگ کیس میں ایف آئی اے نے 57 صفحات پر مشتمل حتمی چالان تیار کرلیا، جو کل عدالت میں جمع کرائے جانے کا امکان ہے۔
چالان کے مطابق کیس میں مجموعی طور پر 11 افراد کو نامزد کیا گیا ہے جبکہ پاکستان تحریک انصاف کے بانی کو مرکزی ملزم قرار دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ طارق شفیع، حامد زمان سمیت دیگر افراد کو بھی مقدمے میں شامل کیا گیا ہے۔
ایف آئی اے کے مطابق کیس میں شامل 3 ملزمان کو اشتہاری قرار دیا جاچکا ہے، جن میں عارف نقوی اور طارق رحیم شیخ بھی شامل ہیں۔
تحقیقات میں بتایا گیا ہے کہ مختلف ممالک سے پی ٹی آئی کے اکاؤنٹس میں تقریباً 1800 مالی ٹرانزیکشنز ہوئیں، اور رقوم ”نیا پاکستان“ کے نام سے موصول کی گئیں۔ مجموعی طور پر تقریباً 21 لاکھ ڈالر کی مبینہ غیر قانونی فنڈنگ کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
چالان میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ رقوم ”ووٹ آن کرکٹ لمیٹڈ“ نامی کمپنی کے ذریعے بھی منتقل ہوئیں، جس کے بارے میں الیکشن کمیشن میں جمع کرائے گئے ریکارڈ میں اسے عارف نقوی کی ملکیت ظاہر کیا گیا اور کیمن آئی لینڈز میں رجسٹرڈ بتایا گیا۔ تاہم ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ تحقیقات میں اس کمپنی کو جعلی اور غیر رجسٹرڈ پایا گیا ہے۔
یاد رہے کہ اسپیشل کورٹ پہلے ہی ایف آئی اے کو حتمی چالان جمع کرانے کی ہدایت دے چکی ہے۔