سینیٹ ذیلی کمیٹی کا ایف بی آر گوداموں سے چوری اور اسمگلنگ پر سخت نوٹس

image

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کی ذیلی کمیٹی نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے گوداموں سے ہزاروں سگریٹ کارٹنوں کی مبینہ چوری کے معاملے کا جائزہ لیا ہے۔

چیئرمین سینیٹر سیف اللہ ابڑو کی زیر صدارت اجلاس میں انکشاف کیا گیا کہ ایف بی آر کے ذخیرہ مراکز سے مبینہ طور پر 2,828 سگریٹ کارٹن غائب ہوئے ہیں۔ ارکان نے دعویٰ کیا کہ اس معاملے کی تحقیقات کرنے والی کمیٹی پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔

سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے الزام عائد کیا کہ اجلاس میں شرکت کے بعد انہیں ایف بی آر کی جانب سے نئے نوٹسز موصول ہوئے، جسے انہوں نے دباؤ ڈالنے کی کوشش قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کا تمباکو کی صنعت سے کوئی تعلق نہیں اور وہ تحقیقات سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ ٹیکس سے مستثنیٰ علاقوں میں قائم فیکٹریوں کی تفصیلات فراہم کی جائیں، اور کہا کہ فاٹا اور پاٹا کرپشن اور ٹیکس چوری کا مرکز بن چکے ہیں۔

کمیٹی رکن سینیٹر عمر فاروق نے الزام لگایا کہ کسٹمز حکام اسمگلنگ میں ملوث ہیں اور بلوچستان کے سرحدی علاقوں کے ذریعے پیٹرول، ڈیزل اور دیگر اشیاء سمیت شراب کی اسمگلنگ جاری ہے۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ ایران سے روزانہ تقریباً 3 کروڑ لیٹر تیل کی اسمگلنگ ہو رہی ہے۔ ارکان نے سوال اٹھایا کہ اربوں روپے کی ضبطی کے باوجود اسمگل شدہ تیل بڑی مارکیٹوں تک کیسے پہنچ رہا ہے۔

اس موقع پر کسٹمز حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ گوادر، پنجگور، چاغی سمیت مختلف اضلاع سے ایرانی تیل کی اسمگلنگ جاری ہے، اور اندازاً 30 لاکھ لیٹر ایرانی تیل روزانہ ملک میں آتا ہے۔ حکام کے مطابق ایک سال کے دوران ڈھائی ارب روپے مالیت کی پیٹرولیم مصنوعات ضبط کی گئی ہیں۔

سینیٹرز نے ملک میں بڑھتی ہوئی اسمگلنگ اور مبینہ کرپشن پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔ کمیٹی نے ٹیکس فری صنعتی زونز کے ریکارڈ طلب کرلیے اور اسمگلنگ کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات کی ہدایت جاری کی۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US