کرکٹ کی دنیا کے معتبر جریدے 'وزڈن' نے اپنے تازہ ترین سالانہ ایڈیشن میں بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) اور بھارت کی مرکزی حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ان پر کھیل میں سیاست شامل کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔
1864 سے شائع ہونے والے اس جریدے کے ایڈیٹر لارنس بوتھ نے اپنے خصوصی اداریے میں لکھا ہے کہ بھارتی کرکٹ بورڈ نے بی جے پی کی حکومتی پالیسیوں کو کرکٹ کے اندر جگہ دی ہے، جو کہ کھیل کے لیے ایک خطرناک رجحان ہے۔
اداریے میں مثالیں دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ایشیا کپ کے دوران پاکستان کی ٹیم سے ہاتھ نہ ملانا اور بھارتی کپتان سوریا کمار یادو کا اپنی فتح کو فوجیوں کے نام کرنا اس سیاسی اثر و رسوخ کا واضح ثبوت ہے۔
اس کے علاوہ سیاسی دباؤ کی وجہ سے بنگلا دیشی فاسٹ بالر مستفیض الرحمن کو آئی پی ایل سے باہر کیے جانے کے واقعے کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
لارنس بوتھ نے مزید لکھا ہے کہ آئی سی سی کے چیئرمین جے شاہ، جو بھارتی وزیر داخلہ کے بیٹے ہیں، کھل کر بی جے پی کے ایجنڈے کو فروغ دے رہے ہیں۔
وزڈن نے خبردار کیا ہے کہ دنیائے کرکٹ پر بھارت کا ایسا غلبہ کھیل کے مستقبل کے لیے نیک شگون نہیں اور اگر دیگر کرکٹ بورڈز اس پر خاموش رہے تو کرکٹ کا مستقبل تاریک ہوسکتا ہے۔