امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک محدود نہیں بلکہ جامع معاہدہ چاہتے ہیں۔
یونیورسٹی آف جارجیا میں خطاب کرتے ہوئے جے ڈی وینس نے کہا کہ گزشتہ 49 برس میں امریکا اور ایران کے درمیان اس سطح کے مذاکرات نہیں ہوئے تاہم دہائیوں پر محیط عدم اعتماد ایک رات میں ختم نہیں ہو سکتا۔
انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ چھوٹی ڈیل کے بجائے ایک ایسے معاہدے کے خواہاں ہیں جو ایران کو نیوکلیئر ہتھیار حاصل کرنے سے روکے اور ریاستی دہشتگردی کا خاتمہ یقینی بنائے اسی لیے اب تک کوئی حتمی ڈیل طے نہیں ہو سکی۔
نائب امریکی صدر کے مطابق مذاکرات میں پیشرفت ضرور ہوئی ہے لیکن ابھی جامع معاہدہ باقی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجوزہ ڈیل ایسی ہونی چاہیے جس سے ایران عالمی معیشت کا حصہ بن سکے اور ایک نارمل ریاست کے طور پر سامنے آئے۔
جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ اگر ایران معمول کے راستے پر آتا ہے تو امریکا بھی اس کے ساتھ اقتصادی طور پر ایک عام ملک جیسا برتاؤ کرے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ مذاکراتی صورتحال پر وہ پُرامید ہیں اور اس مرحلے پر بہتر محسوس کر رہے ہیں جبکہ جنگ بندی بھی برقرار ہے۔