شادی کی پہلی رات دلہن کا حیران کن مطالبہ، تنازع دولہا کی جان لینے تک جا پہنچا

image

بھارتی ریاست اتر پردیش کے شہر آگرہ میں شادی کی خوشیاں اس وقت خوفناک واقعے میں بدل گئیں جب ایک نو بیاہتا دلہن نے پہلی رات ہی ’منہ دکھائی‘ کے بدلے 90 لاکھ روپے کا مطالبہ کر دیا۔ رقم نہ ملنے پر معاملہ سنگین تنازع میں تبدیل ہو گیا اور متاثرہ خاندان نے اقدامِ قتل تک کے الزامات عائد کر دیے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق آگرہ سے تعلق رکھنے والے ایک خاندان نے الزام عائد کیا ہے کہ ان کے بیٹے کی شادی گزشتہ سال 29 اپریل کو کلپنا نامی خاتون سے ہوئی تھی۔ متاثرہ خاندان کی خاتون مسکان سنگھ کے مطابق شادی کی پہلی رات جب دولہا کمرے میں داخل ہوا تو دلہن نے واضح طور پر کہا کہ وہ اس وقت تک گھونگھٹ نہیں اٹھائے گی جب تک اسے 90 لاکھ روپے نقد ادا نہیں کیے جاتے۔

خاندان کے مطابق اس غیر متوقع اور بھاری مطالبے نے سب کو حیران کر دیا۔ بعد ازاں دلہن نے مبینہ طور پر اعتراف کیا کہ اسے اس شادی میں کوئی دلچسپی نہیں تھی اور وہ صرف مالی فائدہ حاصل کرنے کے لیے اس رشتے میں آئی تھی۔

متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ مطالبہ پورا نہ ہونے پر دلہن گھر سے زیورات اور دیگر قیمتی اشیاء لے کر فرار ہو گئی۔ معاملہ اس کے بعد مزید سنگین ہو گیا جب جولائی میں دلہن کے اہل خانہ کی جانب سے مبینہ طور پر دھمکیاں دی گئیں کہ رقم ادا نہ کرنے کی صورت میں خاندان کو زندہ جلا دیا جائے گا۔

خاندان نے یہ بھی الزام لگایا کہ واٹس ایپ کے ذریعے مسلسل دباؤ ڈالا جاتا رہا اور بھتہ طلب کیا جاتا رہا، جس سے انہیں ذہنی طور پر ہراساں کیا گیا۔

رواں سال 26 مارچ کو صورتحال اس وقت مزید بگڑ گئی جب دلہن کے رشتہ دار مبینہ طور پر دولہے کے گھر پہنچے، گالم گلوچ کی اور گھر کی گیس پائپ لائن کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی تاکہ آگ لگا کر پورے خاندان کو نقصان پہنچایا جا سکے۔

متاثرہ خاندان کے مطابق بروقت پولیس کو اطلاع دینے پر ایک بڑا سانحہ ٹل گیا اور پولیس نے انہیں محفوظ مقام پر منتقل کر دیا۔

خاندان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ابتدائی طور پر پولیس نے کوئی کارروائی نہیں کی، جس پر انہیں عدالت سے رجوع کرنا پڑا۔ بعد ازاں عدالتی حکم پر پولیس نے مقدمہ درج کر کے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مکمل تحقیقات کے بعد ہی واقعے کے اصل حقائق سامنے آئیں گے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US