صوبائی وزیر کھیل فیصل ایوب کھوکھر کی زیر صدارت جنرل باڈی اسپورٹس بورڈ پنجاب کا اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں صوبے میں کھیلوں کے فروغ اور انتظامی ڈھانچے کی بہتری کے لیے متعدد بڑے فیصلے کیے گئے۔
اجلاس میں تمام ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز میں سوئمنگ پولز کے قیام اور سوئمنگ کی رجسٹریشن فیسوں کو آدھا کرنے کی منظوری دی گئی۔ صوبہ بھر کے اسپورٹس کمپلیکس کی مانیٹرنگ کے لیے جدید کنٹرول روم کے قیام اور کیمروں کے ذریعے نگرانی کا فیصلہ کیا گیا، جبکہ افسران کی کارکردگی جانچنے کے لیے کے پی آئی (KPIs) سسٹم نافذ کرنے کی منظوری دی گئی جس کے تحت بہترین کارکردگی پر انعامات اور ناقص کارکردگی پر تنزلی کی جائے گی۔
اجلاس میں یونیورسٹی آف اسپورٹس سائنسز پنجاب کے قیام اور محکمہ اسپورٹس کے ملازمین کے لیے ہاؤسنگ کالونی بنانے کے منصوبوں پر اتفاق کیا گیا۔ صوبائی وزیر کی کاوشوں سے سالانہ اسپورٹس کیلنڈر کی باقاعدہ منظوری دی گئی اور پنجاب میں اسپورٹس سہولیات کو آؤٹ سورس کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔
مزید برآں، تمام ڈویژنوں، اضلاع اور ہیڈ کوارٹرز کے انکم آڈٹ کروانے اور میاں میر اسکواش کمپلیکس کے لیے ایم او یو پر دستخط کرنے کی منظوری دی گئی۔ صوبائی وزیر نے شفافیت اور احتساب کے نظام کو مؤثر بنانے پر زور دیتے ہوئے ایچ آر سی کمیٹی کی کارکردگی کو سراہا۔
اجلاس میں وائس چیئرمین اسپورٹس بورڈ ملک سلمان سلیم، سیکریٹری اسپورٹس محمد علی، ڈی جی اسپورٹس محمد طارق قریشی، ایم پی اے محمد اجمل خان چانڈیہ، صدر پنجاب اولمپک ایسوسی ایشن امیر جان اور سابق اولمپین شبانہ اختر سمیت محکمہ خزانہ، ریگولیشنز، ایس اینڈ جی اے ڈی، بورڈ آف ریونیو اور ہائر ایجوکیشن کے نمائندگان نے شرکت کی۔