امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک حیران کن اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل اور لبنان کے رہنما جنگ بندی اور کشیدگی میں کمی کے لیے آج براہ راست مذاکرات کی میز پر بیٹھیں گے۔ یہ گزشتہ 34 برسوں میں دونوں ممالک کے درمیان براہ راست سفارتی رابطے کا پہلا موقع ہوگا۔
تاریخی ریکارڈ کے مطابق اسرائیل اور لبنان کے درمیان براہ راست بات چیت کی آخری بڑی کوشش 1991 کی میڈرڈ کانفرنس میں ہوئی تھی جبکہ 1993 تک واشنگٹن میں محدود مذاکرات جاری رہے تاہم کوئی حتمی امن معاہدہ طے نہ پا سکا۔
اس کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان تمام رابطے بالواسطہ رہے ہیں جن میں اقوام متحدہ کے امن مشنز اور امریکا کی ثالثی شامل رہی ہے۔ لبنان میں 1955 کے قانون اور خطے میں سیاسی کشیدگی خصوصاً حزب اللہ کے کردار کے باعث براہ راست مذاکرات ممکن نہ ہو سکے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے اور فریقین کے درمیان کچھ گنجائش پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ امن کی راہ ہموار ہو سکے۔
انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر کہا کہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان 34 سال سے جاری تعطل اب ختم ہونے جا رہا ہے اور دونوں ممالک کے رہنما جلد ایک ہی میز پر ہوں گے۔
امریکی صدر کے اس اعلان کو مشرق وسطیٰ کی سیاست میں ایک بڑی پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جو خطے میں ممکنہ امن عمل کی جانب اہم قدم ثابت ہو سکتا ہے۔