جوڑوں میں درد سے لے کر سانس کی بیماریاں۔۔ اے سی چلاتے ہوئے کیا احتیاط لازمی کرنی چاہیے؟ ماہرین نے بتا دیا

image

ماہرینِ صحت اور توانائی کے شعبے سے وابستہ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ شدید گرمی اور نمی والے موسم میں ایئرکنڈیشنر کو طویل وقت تک 20 ڈگری یا اس سے کم درجۂ حرارت پر چلانا انسانی صحت اور گھریلو آلات دونوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق اس طرح کے استعمال سے نہ صرف جسمانی مسائل پیدا ہونے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے بلکہ بجلی کے زیادہ استعمال کے باعث مالی بوجھ بھی بڑھتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بہت کم درجۂ حرارت پر ایئرکنڈیشنر چلانے سے جسم کو اچانک ٹھنڈک کا سامنا ہوتا ہے، جس سے نزلہ، زکام، گلے کی خرابی، جوڑوں میں درد اور سانس کی بیماریوں کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔ خاص طور پر بچے، بزرگ اور کمزور مدافعتی نظام رکھنے والے افراد اس کے زیادہ اثرات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ مزید برآں، زیادہ ٹھنڈک اور باہر کے گرم ماحول کے درمیان فرق جسم کے درجۂ حرارت کو متاثر کرتا ہے، جو صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔

توانائی کے ماہرین کے مطابق ایئرکنڈیشنر کو انتہائی کم درجۂ حرارت پر چلانے سے بجلی کی کھپت میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے، جس سے نہ صرف بجلی کے بل میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ قومی سطح پر توانائی کے وسائل پر بھی دباؤ پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ مسلسل زیادہ بوجھ کے باعث ایئرکنڈیشنر کی کارکردگی متاثر ہو سکتی ہے اور اس کی عمر بھی کم ہو سکتی ہے۔

ماہرین نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ ایئرکنڈیشنر کو معتدل درجۂ حرارت، یعنی 24 سے 26 ڈگری کے درمیان رکھا جائے، جو نہ صرف صحت کے لیے موزوں ہے بلکہ توانائی کے مؤثر استعمال میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ کمرے کو اچھی طرح بند رکھنا، فلٹرز کی باقاعدہ صفائی کرنا اور وقفے وقفے سے ایئرکنڈیشنر بند کر کے قدرتی ہوا کا استعمال کرنا بھی مفید قرار دیا گیا ہے۔

ماہرین نے اس بات پر زور دیا ہے کہ مناسب احتیاطی تدابیر اختیار کر کے نہ صرف صحت کے مسائل سے بچا جا سکتا ہے بلکہ توانائی کی بچت اور گھریلو اخراجات میں کمی بھی ممکن ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US