امریکا نے ایران کے خلاف اپنی نئی حکمتِ عملی کے تحت معاشی دباؤ بڑھاتے ہوئے مزید پابندیاں عائد کردی ہیں، جنہیں "آپریشن ایپک فیوری" کے بعد شروع کی گئی "اکانومک فیوری" مہم کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق تازہ پابندیاں 3 افراد اور 17 اداروں پر لگائی گئی ہیں، جن پر انسدادِ دہشتگردی سے متعلق سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔
امریکی بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ کارروائی لبنان کی تنظیم حزب اللہ سے منسلک ایک پیچیدہ مالیاتی نیٹ ورک کے خلاف کی گئی ہے، جس میں سونے کے تبادلہ مراکز کے ذریعے مالی لین دین کیا جاتا تھا۔
امریکی حکام کا دعویٰ ہے کہ اس نیٹ ورک کا مقصد ایران کے عسکری ڈھانچے کو مالی معاونت فراہم کرنا تھا، جہاں سونے کے ذخائر کو نقد رقم میں تبدیل کر کے مختلف تجارتی و ترسیلی راستوں سے حزب اللہ کی سرگرمیوں کے لیے منتقل کیا جاتا تھا۔