خاتون نے کم تنخواہ کا غصہ دفتر میں گھنٹوں سو کر اتارا، باس کی چاکلیٹ بھی ہڑپ

image

وسطی چین کے ایک صنعتی شہر شانگ کیو میں پیش آنے والا ایک غیر معمولی واقعہ ان دنوں سوشل میڈیا اور بین الاقوامی میڈیا کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے، جہاں ایک ملازمت پیشہ خاتون نے کم تنخواہ اور مبینہ نامناسب رویے کے خلاف احتجاج کے طور پر دفتری اوقات میں پانچ گھنٹے تک سوتے رہنے کا اقدام کیا۔ اس واقعے نے نہ صرف پیشہ ورانہ اخلاقیات بلکہ ملازمین کے حقوق اور ادارہ جاتی رویوں پر بھی ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق خاتون ایک نجی کمپنی میں ملازم ہے اور وہ کافی عرصے سے اپنی تنخواہ اور کام کے ماحول سے نالاں تھی۔ اس کا مؤقف تھا کہ اسے اس کی محنت کے مطابق معاوضہ نہیں دیا جا رہا اور اس کا باس اس کے ساتھ غیر مناسب رویہ اختیار کرتا ہے۔ اسی ناراضگی کے اظہار کے طور پر اس نے ایک دن دفتری اوقات کے دوران کام کرنے کے بجائے سونے کا فیصلہ کیا اور مسلسل پانچ گھنٹے تک دفتر میں ہی سوئی رہی، جس کی ویڈیو بعد ازاں سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔

واقعے کے مطابق جب خاتون بیدار ہوئی تو اس کے باس نے اس سے اس غیر ذمہ دارانہ رویے کی وضاحت طلب کی، تاہم خاتون نے نہ صرف اپنی غلطی تسلیم کرنے سے انکار کیا بلکہ مزید حیران کن طور پر باس کی میز پر رکھی چاکلیٹ بھی اٹھا کر کھالی۔

بتایا گیا ہے کہ یہ چاکلیٹ باس کی طبی ضرورت کے تحت رکھی گئی تھی کیونکہ وہ گلوکوپینیا نامی کیفیت کا شکار ہے، جس میں جسم میں شوگر کی سطح کم ہونے کے باعث فوری میٹھی چیزوں کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ رپورٹس کے مطابق اسی روز مناسب وقت پر شوگر نہ ملنے کے باعث باس کی طبیعت بھی بگڑ گئی۔

خاتون نے بعد ازاں سوشل میڈیا پر اپنے عمل کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے باس کو یہ باور کرانا چاہتی ہے کہ ملازمین کو وہی کارکردگی ملتی ہے جس کے مطابق انہیں معاوضہ دیا جاتا ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ کم تنخواہ پر کام کرنے والے افراد کے مسائل کو عام لوگ نہیں سمجھ سکتے اور اس کے اقدام کو اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔

یہ واقعہ جہاں ایک طرف دفتری نظم و ضبط اور پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کی خلاف ورزی کے طور پر تنقید کا نشانہ بن رہا ہے، وہیں دوسری جانب یہ کم تنخواہوں، ملازمین کے استحصال اور کام کے غیر منصفانہ ماحول جیسے اہم مسائل کو بھی اجاگر کر رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق ایسے واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اداروں کو نہ صرف اپنے ملازمین کو مناسب معاوضہ فراہم کرنا چاہیے بلکہ ایک صحت مند اور باعزت کام کا ماحول بھی یقینی بنانا چاہیے تاکہ اس نوعیت کے تنازعات سے بچا جا سکے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US