موسمِ گرما کی شدت میں اضافے اور بجلی کے نرخوں میں مسلسل اضافے نے عام شہریوں کے لیے مالی دباؤ میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔ گھروں میں ایئر کنڈیشنر، فریج اور ایئر کولر کے بڑھتے ہوئے استعمال کے باعث بجلی کے بل کئی گنا بڑھ جاتے ہیں تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ان برقی آلات کو درست طریقے سے استعمال کیا جائے تو نہ صرف توانائی کی بچت ممکن ہے بلکہ ماہانہ بل میں 30 سے 40 فیصد تک کمی بھی لائی جا سکتی ہے۔
ایئر کنڈیشنر کا مؤثر استعمال: ٹھنڈک بھی، بچت بھی
ایئر کنڈیشنر گرمی سے بچاؤ کا سب سے مؤثر ذریعہ ہے، مگر اس کا غیر محتاط استعمال بجلی کے بل میں غیر معمولی اضافہ کر دیتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اے سی کو انتہائی کم درجہ حرارت (16 یا 18 ڈگری) پر چلانے کے بجائے 24 سے 26 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان رکھنا زیادہ مؤثر اور کفایتی ہے۔ اس درجہ حرارت پر نہ صرف کمرہ مناسب حد تک ٹھنڈا رہتا ہے بلکہ کمپریسر پر بھی کم دباؤ پڑتا ہے، جس سے بجلی کی کھپت کم ہو جاتی ہے۔
مزید برآں اے سی استعمال کرتے وقت دروازے اور کھڑکیاں مکمل طور پر بند رکھنا ضروری ہے تاکہ ٹھنڈی ہوا ضائع نہ ہو۔ ماہرین یہ بھی تجویز کرتے ہیں کہ اے سی کے ساتھ ہلکی رفتار پر پنکھا چلایا جائے، جس سے ٹھنڈی ہوا پورے کمرے میں یکساں طور پر پھیلتی ہے اور کولنگ کا عمل تیز ہو جاتا ہے۔
اے سی کے فلٹرز کی باقاعدہ صفائی بھی نہایت اہم ہے۔ اگر فلٹرز گرد و غبار سے بھر جائیں تو مشین کو زیادہ محنت کرنا پڑتی ہے، جس کے نتیجے میں بجلی کی کھپت میں تقریباً 15 فیصد تک اضافہ ہو سکتا ہے۔ اسی طرح روایتی بلب کے بجائے ایل ای ڈی بلب کا استعمال بھی مفید ہے کیونکہ یہ کم حرارت پیدا کرتے ہیں اور کمرے کا درجہ حرارت کم رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔
فریج کے استعمال میں احتیاط: مسلسل چلنے والی مشین کی بچت
فریج ایک ایسا برقی آلہ ہے جو دن رات مسلسل چلتا رہتا ہے، اس لیے اس کی درست دیکھ بھال اور استعمال نہایت اہم ہے۔ ماہرین کے مطابق فریج کو بار بار کھولنے سے گریز کرنا چاہیے کیونکہ ہر بار دروازہ کھلنے سے اندر کی ٹھنڈک متاثر ہوتی ہے اور کمپریسر کو دوبارہ زیادہ توانائی استعمال کرنا پڑتی ہے۔
اسی طرح گرم کھانے کو فوری طور پر فریج میں رکھنے کے بجائے پہلے اسے کمرے کے درجہ حرارت تک ٹھنڈا کرنا چاہیے۔ گرم اشیاء فریج کے اندرونی درجہ حرارت کو بڑھا دیتی ہیں، جس کے باعث مشین کو اضافی بجلی خرچ کرنا پڑتی ہے۔
فریج کی پوزیشن بھی اہمیت رکھتی ہے۔ اسے دیوار سے کم از کم چھ انچ کے فاصلے پر رکھنا چاہیے تاکہ اس کے پیچھے موجود کوائلز سے حرارت آسانی سے خارج ہو سکے اور مشین بہتر کارکردگی دکھا سکے۔
ایئر کولر کا درست استعمال: کراس وینٹیلیشن کی اہمیت
ایئر کولر نسبتاً کم بجلی استعمال کرنے والا آلہ ہے، مگر اس کی کارکردگی کا انحصار درست استعمال پر ہے۔ ماہرین کے مطابق کولر کو ہمیشہ کھڑکی یا دروازے کے قریب رکھنا چاہیے تاکہ وہ باہر سے تازہ ہوا حاصل کر سکے۔
کراس وینٹیلیشن یعنی ہوا کے داخلے اور اخراج کا مناسب نظام کولر کی کارکردگی کے لیے ضروری ہے۔ بند کمرے میں کولر چلانے سے نمی بڑھ جاتی ہے، جس سے گھٹن محسوس ہوتی ہے اور مطلوبہ ٹھنڈک حاصل نہیں ہو پاتی، جبکہ بجلی کا ضیاع بھی ہوتا ہے۔
کولر کے کولنگ پیڈز یا گھاس کی باقاعدہ صفائی یا تبدیلی بھی ضروری ہے۔ اگر ان پر گرد و غبار جمع ہو جائے تو ہوا کا بہاؤ متاثر ہوتا ہے اور کولنگ کم ہو جاتی ہے، جس کے نتیجے میں بجلی کا استعمال بڑھ جاتا ہے۔
مشینوں کی بروقت سروس: کارکردگی میں بہتری
ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ گرمیوں کے آغاز سے قبل تمام برقی آلات کی سروس کروانا نہایت ضروری ہے۔ مستند ٹیکنیشن کے ذریعے بروقت دیکھ بھال نہ صرف مشینوں کی کارکردگی کو بہتر بناتی ہے بلکہ ان کی عمر میں بھی اضافہ کرتی ہے اور غیر ضروری توانائی کے ضیاع کو روکتی ہے۔
چھوٹی عادتیں، بڑی بچت
توانائی کے بڑھتے ہوئے بحران اور مہنگی بجلی کے اس دور میں معمولی احتیاطی تدابیر اپنانا انتہائی ضروری ہو چکا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر صارفین روزمرہ استعمال میں چند سادہ اصولوں کو اپنا لیں تو نہ صرف بجلی کے بل میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے بلکہ ماحول دوست طرزِ زندگی کو بھی فروغ دیا جا سکتا ہے۔ یہ چھوٹی تبدیلیاں طویل المدتی بنیادوں پر بڑی مالی بچت کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔