انٹرنیشنل اینٹی ڈوپنگ ایجنسی (WADA) نے بھارت کو دنیا بھر میں ممنوعہ ادویات کے استعمال اور ان کی تیار کرنے والے ممالک کی فہرست میں شامل کردیا ہے۔
واڈا کے صدر وٹالڈ بنکا نے دہلی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ بھارت نہ صرف کارکردگی بڑھانے والی غیر قانونی ادویات بنانے والا سب سے بڑا ملک بن چکا ہے، بلکہ اس کے ایتھلیٹس بھی ڈوپنگ کے مثبت کیسز کی عالمی فہرست میں پہلے نمبر پر آگئے ہیں۔
واڈا کے صدر نے تصدیق کی کہ وہ بھارت کے سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) کے ساتھ مل کر ان ادویات کی تیاری اور ترسیل کے خلاف ایک بڑی مہم چلا رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ بھارتی کھیلوں میں یہ مسئلہ سنگین صورتحال اختیار کرچکا ہے اور اب صرف کھلاڑیوں کے ٹیسٹ کرنا کافی نہیں رہا، بلکہ اصل ہدف ان فیکٹریوں اور سپلائی لائنز کو ختم کرنا ہے جہاں یہ غیر قانونی ادویات تیار کی جا رہی ہیں۔
اعداد و شمار کے حوالے سے بتایا گیا کہ بھارت کی قومی اینٹی ڈوپنگ ایجنسی (NADA) نے گزشتہ برس ایتھلیٹس کے 713 پیشاب اور خون کے نمونے حاصل کیے تھے، جن میں سے 260 کے نتائج مثبت نکلے، جو ایک انتہائی تشویشناک شرح ہے۔
وٹالڈ بنکا نے مزید کہا کہ اس غیر قانونی عمل میں صرف کھلاڑی ہی نہیں بلکہ بہت سے کوچز بھی ملوث ہیں جو کھلاڑیوں کو مصنوعی طریقے سے کارکردگی بہتر بنانے کے لیے ممنوعہ ادویات کے استعمال پر اکساتے اور ان کی مدد کرتے ہیں۔