34 سال میں پہلی بار اسرائیل اور لبنان نے براہِ راست امن مذاکرات پر اتفاق کیا ہے، جسے خطے میں ایک اہم سفارتی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
معاہدے کے تحت 10 روزہ جنگ بندی نافذ کر دی گئی ہے، جس میں حزب اللہ بھی شامل ہے۔ جنگ بندی کے بعد لبنان کے مختلف شہروں، خصوصاً بیروت میں عوام نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے سڑکوں پر جشن منایا اور ہوائی فائرنگ بھی کی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس معاہدے میں کردار ادا کیا اور لبنان کے صدر اور اسرائیلی وزیرِاعظم کو مزید بات چیت کے لیے وائٹ ہاؤس مدعو کیا ہے تاکہ دیرپا امن کے لیے لائحہ عمل طے کیا جا سکے۔
جنگ بندی کے بعد لبنان میں عوام نے سکون اور راحت کا اظہار کیا ہے، جہاں طویل عرصے سے جاری کشیدگی کے بعد حالات میں بہتری کی امید پیدا ہوئی ہے۔
جنگ بندی کو عوام کی جانب سے وقتی امن کی امید قرار دیا جا رہا ہے اور دارالحکومت میں جشن کا سماں دیکھنے میں آیا۔
دوسری جانب ایران کے دارالحکومت تہران میں فضا حزب اللہ کے نعروں سے گونج اٹھی جہاں اس پیش رفت کو مزاحمت کی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔
پاسداران انقلاب ایران کی قدس فورس کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل اسماعیل قانی نے اپنے بیان میں کہا کہ اس جنگ کی فاتح حزب اللہ ہے اور جنگ بندی لبنان کی مزاحمت کی استقامت اور ایران کی حمایت کا نتیجہ ہے۔
ایران نے لبنان میں ہونے والی جنگ بندی کا خیرمقدم کیا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان کے مطابق یہ پیش رفت ایران اور امریکا کے درمیان پہلے سے موجود مفاہمت کے تناظر میں مثبت قدم ہے۔