پاکستان تحریک انصاف نے خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال پر اپنا مؤقف واضح کرتے ہوئے ”پاکستان فرسٹ“ پالیسی کو مرکزی حیثیت دی ہے اور خطے میں امن کے لیے کی جانے والی کوششوں کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔
لاہور میں گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ پاکستان خطے خصوصاً مشرق وسطیٰ میں استحکام کے لیے مثبت کردار ادا کرے تو پارٹی اس کی حمایت کرتی ہے۔ انہوں نے حالیہ جنگ بندی کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان عالمی امن میں اہم کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اس کی سفارتی کوششیں قابلِ تعریف ہیں۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پی ٹی آئی کی اولین ترجیح پارٹی بانی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی رہائی ہے، جن کی حراست کو انہوں نے سیاسی اور غیرقانونی قرار دیا۔
انہوں نے پارٹی میں اختلافات یا کسی فارورڈ بلاک کی موجودگی کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی متحد ہے اور تمام فیصلے بانی چیئرمین کی قیادت میں کیے جا رہے ہیں۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے یہ بھی کہا کہ پارٹی کے اندر تمام فیصلے قانونی اور سیاسی فورمز کے ذریعے اجتماعی طور پر کیے جا رہے ہیں، جبکہ علیمہ خان کے حوالے سے سیاسی عزائم کی خبروں کو رد کرتے ہوئے ان کے خاندانی کردار کا احترام برقرار رکھنے کی بات کی۔
انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی تمام آپشنز پر غور کر رہی ہے، جن میں بیک ڈور ڈپلومیسی بھی شامل ہے، تاہم پارٹی اپنے سیاسی اور جمہوری طریقہ کار کے مطابق آگے بڑھے گی۔
بیرسٹر گوہر نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ خطے کی صورتحال، خصوصاً ایران سے متعلق معاملات پر پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلایا جائے، اور کہا کہ اگر ایسا اجلاس طلب کیا گیا تو پی ٹی آئی اس میں بھرپور شرکت کرے گی۔