وفاقی آئینی عدالت نے بھارت اور اسرائیل سے کتابوں سمیت دیگر اشیاء کی درآمد پر عائد پابندی کو درست قرار دیتے ہوئے لاہور ہائیکورٹ کے تمام احکامات کالعدم قرار دے دیے ہیں۔
جسٹس عامر فاروق کی جانب سے تحریر کردہ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ لاہور ہائیکورٹ کا حکم “سوموٹو” نوعیت کا تھا، جسے اختیار سے تجاوز قرار دیتے ہوئے ختم کیا جاتا ہے۔ فیصلے میں جسٹس علی باقر نجفی کا اضافی نوٹ بھی شامل ہے۔
عدالت نے واضح کیا کہ خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی سے متعلق فیصلے ایگزیکٹو کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں، اور عدلیہ اس میں مداخلت نہیں کر سکتی۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ یہ حکومت کی صوابدید ہے کہ وہ کن ممالک سے تجارتی تعلقات قائم کرے۔
عدالت نے مزید قرار دیا کہ اگر عدلیہ تجارت سے متعلق ہدایات جاری کرے گی تو یہ اختیارات سے تجاوز کے مترادف ہوگا۔ تاہم، درخواست گزاروں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے تحفظات کے لیے حکومت سے رجوع کرسکتے ہیں۔