امریکا کی جانب سے روسی تیل کی خریداری پر دی گئی رعایت ختم ہونے کے اعلان کے بعد بھارت کو توانائی کے شعبے میں شدید مشکلات اور چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
بھارتی میڈیا 'این ڈی ٹی وی' کی رپورٹ کے مطابق، امریکی رعایت کی مدت ختم ہونے سے پیدا ہونے والی نئی صورتحال کے باعث اب بھارتی ریفائنریوں کو اپنی خام تیل کی ضروریات پوری کرنے کے لیے متبادل ذرائع کی تلاش شروع کرنی ہوگی۔
روس اور یوکرین کے درمیان جنگ کے آغاز کے بعد، بھارت نے عالمی منڈی کی صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بڑی مقدار میں رعایتی قیمت پر روسی تیل کے آرڈرز دیے تھے، جن کی مجموعی مقدار تقریباً 3 کروڑ بیرل تک بتائی جاتی ہے۔ تاہم، امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ مخصوص مدت کے لیے فراہم کی گئی یہ سہولت اب ختم ہو چکی ہے اور اس پالیسی پر نظرثانی کی جا رہی ہے۔
معاشی ماہرین کے مطابق، اس فیصلے کے نتیجے میں بھارت کو اپنی توانائی کی قومی ضروریات پوری کرنے کے لیے فوری طور پر نئی حکمت عملی وضع کرنا ہوگی۔ اس تبدیلی سے نہ صرف عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا خدشہ ہے، بلکہ عالمی سپلائی چین پر بھی اس کے گہرے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں، جو بھارتی معیشت کے لیے ایک کڑا امتحان ثابت ہوں گے۔