امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے، جس کے تحت واشنگٹن ایران کے 20 ارب ڈالر کے منجمد اثاثے جاری کرنے پر آمادہ ہوگیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق اس ممکنہ معاہدے کے بدلے ایران اپنے افزودہ یورینیم کے ذخیرے سے دستبردار ہوگا، جو عالمی برادری کے لیے ایک بڑی پیشرفت تصور کی جا رہی ہے۔
تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ ابھی بھی کچھ اہم معاملات پر ڈیڈ لاک برقرار ہے۔ خاص طور پر یورینیم کو ٹھکانے لگانے کے طریقہ کار اور ایرانی جوہری پروگرام کو محدود کرنے کی مدت کے تعین پر دونوں ممالک کے درمیان اختلافات موجود ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر باقی معاملات طے پاگئے تو یہ معاہدہ خطے میں کشیدگی کم کرنے اور سفارتی تعلقات کی بحالی میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔