امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے متعلق ممکنہ پیش رفت کا اشارہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ کل کوئی بڑا سرپرائز سامنے آ سکتا ہے۔
غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگر ایران کے ساتھ معاہدہ نہ ہوا تو ایرانی بندرگاہوں پر امریکی پابندیاں برقرار رہیں گی۔ انہوں نے کہا کہ کل کچھ ہونے والا ہے اور میرے خیال میں یہ بہت مثبت پیش رفت ہوگی۔
رائٹرز کے مطابق امریکی صدر نے مزید بتایا کہ ایک اہم اور بااثر شخصیت کل وائٹ ہاؤس کا دورہ کرے گی جس کے بعد ایک غیر معمولی نیوز کانفرنس بھی کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ یہ ایونٹ براہ راست ایران سے متعلق نہیں ہوگا تاہم سوالات کا محور یہی معاملہ ہوگا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز میں امریکی ناکہ بندی مؤثر طریقے سے جاری ہے اور ایران کے ساتھ کئی امور پر پہلے ہی اتفاق ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی قیادت اپنے عوام کو مطمئن کرنے کے لیے مختلف بیانات دے رہی ہے، تاہم وہ حقائق بیان کر رہے ہیں۔
امریکی صدر نے واضح کیا کہ ایران کو کسی صورت جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیے جائیں گے۔ ان کے بقول امریکی نمائندے مذاکرات کر رہے ہیں تاہم حتمی فیصلہ وہ خود کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ معاہدہ ہونے کی صورت میں ایران سے نیوکلیئر مواد امریکا منتقل کیا جائے گا بصورت دیگر سخت اقدامات کیے جائیں گے۔
ٹرمپ نے لبنان کے حوالے سے بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکا لبنان کو ایک مستحکم ملک بنانے میں مدد کرے گا۔
دوسری جانب ایران نے آبنائے ہرمز کو کمرشل جہازوں کے لیے کھولنے کا اعلان کیا ہے تاہم اسے سیز فائر سے مشروط قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ خلاف ورزی کی صورت میں آبنائے کو دوبارہ بند کیا جا سکتا ہے۔