روزمرہ زندگی میں شوق سے استعمال کی جانے والی سافٹ ڈرنکس اب صحت کے لیے ایک سنجیدہ خطرے کے طور پر سامنے آ رہی ہیں۔ ماہرینِ صحت نے خبردار کیا ہے کہ میٹھے کاربونیٹڈ مشروبات کا مسلسل اور زیادہ استعمال مردوں اور خواتین دونوں میں تولیدی صلاحیت کو متاثر کرتے ہوئے بانجھ پن کے امکانات میں اضافہ کرسکتا ہے۔
ایک تحقیق کے مطابق خوراک اور طرزِ زندگی نہ صرف عمومی صحت بلکہ اولاد پیدا کرنے کی صلاحیت پر بھی براہِ راست اثرانداز ہوتے ہیں۔ تحقیق میں بتایا گیا کہ خاص طور پر زائد شکر والے مشروبات کا باقاعدہ استعمال انسانی جسم کے ہارمونل توازن اور تولیدی نظام کو متاثر کرسکتا ہے۔
تحقیق میں امریکا اور کینیڈا سے تعلق رکھنے والے 21 سے 45 سال کی عمر کے 3,828 خواتین اور ان کے شریک حیات کو شامل کیا گیا۔ تحقیق کے دوران شرکاء کے طرزِ زندگی، خوراک اور طبی ریکارڈ کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، جبکہ خواتین سے ہر دو ماہ بعد سوالنامے کے ذریعے صحت اور حمل سے متعلق معلومات بھی حاصل کی گئیں۔
ایک سال پر محیط تجزیے کے بعد ماہرین اس نتیجے پر پہنچے کہ وہ افراد جو زیادہ مقدار میں سافٹ ڈرنکس استعمال کرتے ہیں، ان میں ہر ماہ والدین بننے کے امکانات تقریباً 20 فیصد تک کم ہو جاتے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کاربونیٹڈ مشروبات کا مسلسل استعمال تولیدی صحت پر نمایاں منفی اثر ڈال سکتا ہے۔
ماہرین نے اس جانب بھی توجہ دلائی کہ گزشتہ چند دہائیوں میں خوراک میں شکر کی مقدار میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس کی بڑی وجہ میٹھے مشروبات کا بڑھتا ہوا استعمال ہے۔ اس رجحان کے باعث موٹاپا، ذیابیطس اور دیگر میٹابولک امراض میں بھی تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جو بالواسطہ طور پر تولیدی صحت کو متاثر کرتے ہیں۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ صحت مند زندگی اور بہتر مستقبل کے لیے ضروری ہے کہ سافٹ ڈرنکس اور دیگر میٹھے مشروبات کا استعمال محدود کیا جائے، متوازن غذا اپنائی جائے اور صحت بخش طرزِ زندگی کو فروغ دیا جائے تاکہ نہ صرف عمومی صحت بہتر رہے بلکہ والدین بننے کی صلاحیت بھی متاثر نہ ہو۔