چین میں ایک منفرد اور حیران کن واقعہ سامنے آیا ہے جہاں ایک ماں نے اپنے بیٹے کی تعلیمی سستی دور کرنے کے لیے غیر معمولی قدم اٹھاتے ہوئے اسے پولیس اسٹیشن لے جانے کا فیصلہ کیا، جس کے بعد بچے کے رویے میں واضح تبدیلی دیکھنے میں آئی۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ چین کے صوبے ژی جیانگ میں پیش آیا، جہاں شیاؤنگ نامی خاتون اپنے 9 سے 10 سالہ بیٹے کی تعلیمی سستی سے سخت پریشان تھیں۔ خاتون کے مطابق ان کا بیٹا روزانہ اسکول کا کام مکمل کرنے میں غیر معمولی تاخیر کرتا تھا اور بارہا سمجھانے کے باوجود اس کی عادت میں کوئی بہتری نہیں آ رہی تھی۔
صورتحال سے تنگ آ کر ماں نے بیٹے کو ایک واضح شرط دی کہ اگر وہ شام 6 بجے تک اپنا ہوم ورک مکمل نہ کر سکا تو اسے پولیس اسٹیشن لے جایا جائے گا۔ بچے نے اس چیلنج کو قبول کرلیا، تاہم جب خاتون شام 5 بجے گھر واپس آئیں تو انہوں نے دیکھا کہ بچہ ٹی وی دیکھتے ہوئے نوڈلز کھا رہا ہے اور ہوم ورک تقریباً نامکمل تھا۔
جب مقررہ وقت ختم ہوا تو معلوم ہوا کہ بچے نے صرف چند الفاظ ہی لکھے تھے، جس پر ماں نے اپنے وعدے کے مطابق اسے قریبی پولیس اسٹیشن لے جانے کا فیصلہ کیا۔ وہاں موجود پولیس اہلکار کو صورتحال سے آگاہ کیا گیا، جس نے نہایت مثبت اور دوستانہ انداز میں بچے کو وہیں ہوم ورک مکمل کرنے کی اجازت دے دی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ جس کام کو بچہ گھر میں گھنٹوں میں بھی مکمل نہیں کر پاتا تھا، وہی کام اس نے پولیس اسٹیشن میں محض ایک گھنٹے کے اندر مکمل کرلیا۔ ماں کے مطابق پولیس اہلکاروں نے نہایت خوش اسلوبی سے معاملے کو سنبھالا جبکہ بچہ اس دوران خاموش اور سنجیدہ رہا۔
خاتون کا کہنا ہے کہ اس واقعے کے بعد ان کے بیٹے کے رویے میں نمایاں بہتری آئی ہے اور اب وہ گھر میں بھی اسکول کا کام زیادہ تیزی اور ذمہ داری کے ساتھ مکمل کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق بچوں کی تربیت میں نظم و ضبط کے ساتھ ساتھ مثبت اور عملی اقدامات بعض اوقات مؤثر ثابت ہوتے ہیں، تاہم ایسے اقدامات اختیار کرتے وقت بچوں کی نفسیاتی کیفیت کو مدنظر رکھنا بھی نہایت ضروری ہے۔