گدے کی صفائی کیوں ضروری؟ پسینے، تیل اور جراثیم سے بھرے میٹرس کو صاف کرنے کا آسان طریقہ

image

گھر میں استعمال ہونے والا گدا بظاہر صاف دکھائی دیتا ہے مگر ماہرین کے مطابق یہ وقت کے ساتھ پسینے، تیل اور مردہ جلدی خلیات سے بھر جاتا ہے جو نہ صرف بدبو کا باعث بنتے ہیں بلکہ صحت کے لیے بھی خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں۔ طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ گدے کی باقاعدہ صفائی نہ کرنے سے الرجی، سانس کے مسائل اور جلدی بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

بین الاقوامی جریدے دی گارڈین میں شائع رپورٹ کے مطابق انسان نیند کے دوران لاکھوں مردہ خلیات خارج کرتا ہے جو گدے میں جذب ہوکر بیکٹیریا اور ڈسٹ مائٹس کی افزائش کا سبب بنتے ہیں۔ یہی عناصر نیند کے معیار کو متاثر کرنے کے ساتھ ساتھ دمہ اور دیگر سانس کی بیماریوں کو بھی جنم دے سکتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ گدے کی گہری صفائی کم از کم ہر چھ ماہ بعد ضرور کرنی چاہیے جبکہ بستر کی چادریں اور تکیے کے غلاف ہفتہ وار تبدیل کیے جائیں۔ صفائی کے لیے سب سے پہلے بیڈ شیٹس، تکیوں کے کور اور میٹرس پروٹیکٹر اتار کر گرم پانی سے دھوئے جائیں، جبکہ کمرے کی کھڑکیاں کھول کر ہوا کی آمدورفت یقینی بنائی جائے تاکہ نمی ختم ہو سکے۔

گدے کی سطح اور کونوں کی صفائی کے لیے ویکیوم کلینر استعمال کیا جا سکتا ہے تاہم اگر گدا قدرتی فائبر یا اون سے بنا ہو تو نرم برش کا استعمال بہتر رہتا ہے تاکہ اس کے ریشے متاثر نہ ہوں۔

بدبو کے خاتمے کے لیے ماہرین بیکنگ سوڈا کے استعمال کو مؤثر قرار دیتے ہیں۔ گدے پر بیکنگ سوڈا چھڑک کر چند گھنٹوں یا پوری رات کے لیے چھوڑ دینے سے نمی اور ناگوار بو جذب ہو جاتی ہے، جسے بعد میں آسانی سے صاف کیا جا سکتا ہے۔ شدید بدبو کی صورت میں سفید سرکہ اور پانی کا ہلکا سپرے بھی کیا جا سکتا ہے، تاہم گدے کو زیادہ گیلا کرنے سے گریز ضروری ہے۔

داغ دھبوں کی صفائی کے لیے ہلکے صابن اور نیم گرم پانی کا محلول استعمال کرنے کی ہدایت کی جاتی ہے۔ صفائی ہمیشہ داغ کے کناروں سے مرکز کی طرف کی جائے تاکہ نشان پھیلے نہیں۔ اسی طرح بیکنگ سوڈا، نمک اور لیموں کے رس سے تیار کردہ پیسٹ بھی داغ صاف کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

ماہرین نے خاص طور پر میموری فوم گدوں کے حوالے سے خبردار کیا ہے کہ ان میں پانی یا مائع کا زیادہ استعمال نقصان دہ ہوسکتا ہے، کیونکہ یہ نمی کو جذب کر لیتے ہیں اور خشک ہونے میں زیادہ وقت لیتے ہیں، جس سے پھپھوندی بننے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

صفائی کے بعد گدے کو مکمل طور پر خشک کرنا نہایت ضروری ہے۔ اسے کم از کم 24 سے 48 گھنٹے تک دھوپ اور ہوا میں رکھنا چاہیے تاکہ اندر موجود نمی ختم ہو جائے۔ ادھورا خشک گدا استعمال کرنے سے بدبو اور جراثیم دوبارہ پیدا ہوسکتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق روزانہ بستر کو سیدھا کرنا اور ہوا لگنے دینا بھی گدے کو صاف رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے، کیونکہ بند اور نم ماحول میں جراثیم اور ڈسٹ مائٹس تیزی سے بڑھتے ہیں۔ صاف، خشک اور جراثیم سے پاک بستر نہ صرف بہتر نیند فراہم کرتا ہے بلکہ مجموعی صحت کو بھی بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US