امریکی اخبار دی وال اسٹریٹ جرنل نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا بین الاقوامی سمندروں میں موجود ایرانی آئل ٹینکروں اور تجارتی جہازوں کو اپنی تحویل میں لینے کی تیاری کر رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق واشنگٹن اس اقدام کے ذریعے ایران پر دباؤ بڑھانا چاہتا ہے تاکہ وہ آبنائے ہرمز کو کھول دے اور اپنے ایٹمی پروگرام پر نرمی دکھائے۔
دوسری جانب ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں نئے احکامات نافذ کیے جائیں گے، جن کے تحت وہاں سے گزرنے والے جہازوں کے لیے ایرانی نیوی سے اجازت لینا لازمی ہوگی۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ جہازوں کو ایران کے طے کردہ راستوں پر ہی سفر کرنا ہوگا جبکہ نیول جہازوں کی آمد و رفت پر سخت پابندیاں عائد کی جائیں گی۔
ایرانی نیوی کے رئیر ایڈمرل شہرام ایرانی نے کہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے درحقیقت ایران نہیں بلکہ اپنے اتحادیوں کی ناکہ بندی کی ہے، اور ان کے بقول ٹرمپ کے بیانات کو سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا۔
واضح رہے کہ ایران نے اس سے قبل لبنان میں جنگ بندی کے بعد آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کیا تھا، تاہم حالیہ دنوں میں ایک بار پھر اسے بند کرنے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک امریکا اپنے "غیر قانونی اقدامات" ختم نہیں کرتا، یہ گزرگاہ کھولی نہیں جائے گی۔
دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکا کی جانب سے مبینہ ناکہ بندی کے اعلان کو "بھونڈا اور جاہلانہ فیصلہ" قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کسی صورت قابل قبول نہیں کہ دیگر ممالک کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت ہو اور ایران کو روکا جائے۔
ایک انٹرویو میں انہوں نے بتایا کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات میں کچھ پیش رفت ضرور ہوئی ہے، تاہم دونوں ممالک کے درمیان اب بھی نمایاں فاصلے موجود ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ دشمن اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ ان کے مطابق مخالف قوتیں سمجھتی تھیں کہ ایران چند دنوں میں ہتھیار ڈال دے گا، مگر ایران نے طویل عرصے تک مزاحمت کی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران کو وینزویلا جیسی صورتحال سے دوچار کرنے کی کوشش کامیاب نہ ہوسکی، جبکہ امریکا کی جانب سے نیٹو کو شامل کرنے کی کوشش بھی ناکام رہی۔
قالیباف کے مطابق جنگ کے دوران دشمن کے 170 سے 180 ڈرونز مار گرائے گئے، جبکہ ایک امریکی ایف-35 طیارے کو نشانہ بنانا بھی بڑی کامیابی ہے۔ تاہم انہوں نے ایرانی دفاعی ٹیکنالوجی کی مزید تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔
انہوں نے خبردار کیا کہ امریکی مائن سوئپرز اپنی موجودہ پوزیشن سے آگے نہ بڑھیں، بصورت دیگر ایران کی جانب سے سخت ردعمل دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ مؤقف امریکی وفد کو بھی واضح طور پر پہنچا دیا گیا ہے۔