مظفر گڑھ میں علم کی لگن اور حوصلے کی ایک منفرد داستان سامنے آئی ہے جہاں 55 سالہ غلام قادر نے نویں جماعت کے امتحانات میں شریک ہو کر یہ ثابت کر دیا کہ تعلیم کے حصول کے لیے عمر کبھی رکاوٹ نہیں بنتی۔
تفصیلات کے مطابق غلام قادر نے امتحانی مرکز میں دیگر طلبہ کے ساتھ بیٹھ کر پرچہ دیا اور اپنے عمل سے نوجوان نسل سمیت معاشرے کے ہر طبقے کو ایک مثبت پیغام دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے بچے تعلیم یافتہ ہیں اور انہی کی حوصلہ افزائی نے انہیں دوبارہ تعلیم کے میدان میں قدم رکھنے پر آمادہ کیا۔
غلام قادر نے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ وہ ماضی میں دو مرتبہ میٹرک کے امتحان میں ناکامی کا سامنا کر چکے ہیں تاہم انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور اپنے تعلیمی سفر کو جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ وہ تقریباً تیرہ برس قبل آخری بار امتحان میں شریک ہوئے تھے، مگر اس بار وہ مکمل تیاری اور عزم کے ساتھ میدان میں اترے ہیں۔
انہوں نے پُرعزم انداز میں کہا کہ وہ اس امتحان میں کامیابی حاصل کریں گے اور اس کے بعد اپنی تعلیم کو مزید جاری رکھتے ہوئے انٹرمیڈیٹ تک ضرور پہنچیں گے۔ غلام قادر کا کہنا تھا کہ سیکھنے کا عمل زندگی بھر جاری رہتا ہے اور انسان کو ہر حال میں علم حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
ان کی یہ کاوش نہ صرف حوصلہ افزا ہے بلکہ اس بات کی جیتی جاگتی مثال بھی ہے کہ عزم، محنت اور حوصلے کے ساتھ کسی بھی مرحلے پر نئی شروعات کی جا سکتی ہے۔