کراچی کے مصروف علاقے شارع فیصل پر میٹروپول ہوٹل کے قریب فائرنگ کا افسوسناک واقعہ پیش آیا جس کے نتیجے میں ایک ڈاکٹر جان کی بازی ہار گئے، واقعے نے شہر میں ایک بار پھر امن و امان کی صورتحال پر سوالات کھڑے کر دیے۔
پولیس حکام کے مطابق جاں بحق ہونے والے ڈاکٹر کی شناخت ڈاکٹر سارنگ کے نام سے ہوئی ہے جو اپنی اہلیہ کے ہمراہ رکشے میں سفر کر رہے تھے کہ اس دوران نامعلوم مسلح افراد نے ان کا پیچھا کیا۔
بتایا گیا ہے کہ ملزمان ایک کار میں سوار تھے اور موقع پا کر اندھا دھند فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں ڈاکٹر موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے جبکہ ان کی اہلیہ محفوظ رہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ مقتول ڈاکٹر گلستان جوہر چورنگی کے قریب واقع ایک نجی اسپتال سے وابستہ تھے اور پیشہ ورانہ فرائض انجام دے رہے تھے۔
مقتول کے بھائی نے پولیس کو بتایا کہ حسیب نامی شخص ڈاکٹر سارنگ پر پہلے بھی دو بار حملہ کرچکا تھا، حسیب کون ہے کیا کرتا ہے؟ ہم نہیں جانتے، انھوں نے پولیس کو بتایا کہ حسیب کی وجہ سے ہی ڈاکٹر سارنگ پریشان تھا اور دو اسپتالوں سے اپنا تبادلہ بھی کراچکا تھا۔
واقعے کے بعد پولیس اور تحقیقاتی ادارے جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اور شواہد اکٹھے کر کے تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے، جبکہ ملزمان کی تلاش کے لیے شہر بھر میں ناکہ بندی بھی کی جا رہی ہے۔
دوسری جانب شہر کے علاقے نیو کراچی سیکٹر گیارہ بی میں بھی فائرنگ کا ایک اور واقعہ پیش آیا جہاں ایک تاجر زخمی ہوگیا۔ ذرائع کے مطابق زخمی تاجر کو کچھ عرصہ قبل بھتہ طلبی کی پرچی موصول ہوئی تھی، جس کے بعد اس واقعے کو بھتہ خوری سے جوڑا جا رہا ہے۔
شہر میں پیش آنے والے ان پے در پے واقعات نے شہریوں میں شدید تشویش پیدا کردی ہے جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں پر جرائم پیشہ عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی کے لیے دباؤ میں اضافہ ہورہا ہے۔