پاکستان نے سوڈان کو اسلحہ اور لڑاکا طیاروں کی فراہمی سے متعلق تقریباً 1.5 ارب ڈالر کے ایک اہم دفاعی معاہدے کو عارضی طور پر روک دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب سعودی عرب نے اس معاہدے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے نہ صرف اس کی مالی معاونت سے انکار کیا بلکہ پاکستان کو اسے ختم کرنے کا عندیہ بھی دیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس معاہدے کے تحت پاکستان کو سوڈان کو جدید ہتھیاروں کے ساتھ لڑاکا طیارے فراہم کرنا تھے۔ اس پیش رفت سے قبل جنوری میں یہ اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ یہ معاہدہ حتمی مراحل میں داخل ہو چکا ہے اور اس میں سعودی عرب نے ثالثی کا کردار ادا کیا تھا، تاہم اس وقت مالی معاونت کی تفصیلات واضح نہیں تھیں۔
سوڈان اس وقت شدید داخلی کشیدگی کا شکار ہے جہاں فوج اور نیم فوجی تنظیم ریپڈ سپورٹ فورسز کے درمیان جاری تنازع گزشتہ تین برسوں سے ایک بڑے انسانی بحران میں تبدیل ہو چکا ہے۔ اس صورتحال نے نہ صرف ملک کو تقسیم کے خطرے سے دوچار کیا ہے بلکہ خطے میں بیرونی طاقتوں کے مفادات کو بھی متحرک کردیا ہے۔
پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات گزشتہ برس باہمی دفاعی معاہدے کے بعد مزید مضبوط ہوئے ہیں، جس کے تحت کسی ایک ملک پر حملہ دونوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ سعودی عرب پاکستان کی معیشت کے لیے بھی ایک اہم شراکت دار رہا ہے اور مشکل حالات میں مالی مدد فراہم کرتا رہا ہے۔
ایک سیکیورٹی ذرائع کے مطابق سعودی عرب نے واضح اشارہ دیا ہے کہ چونکہ وہ اس معاہدے کی مالی معاونت نہیں کرے گا، اس لیے پاکستان کو اسے ختم کرنا چاہیے۔ اس حوالے سے سعودی حکومت یا سوڈان کی فوج کی جانب سے فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ پاکستانی فوج نے بھی اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق بعض مغربی ممالک نے بھی سعودی عرب کو افریقی خطے میں پراکسی تنازعات سے دور رہنے کا مشورہ دیا ہے۔ خطے میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات مختلف تنازعات میں الگ الگ فریقین کی حمایت کرتے رہے ہیں۔ سوڈان کے معاملے میں سعودی عرب فوج کی حمایت کر رہا ہے، جبکہ متحدہ عرب امارات پر ریپڈ سپورٹ فورسز کو لاجسٹک مدد فراہم کرنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں، جن کی وہ تردید کرتا ہے۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ مارچ میں ریاض میں سوڈانی فوجی قیادت اور سعودی حکام کے درمیان ہونے والی ملاقات کے بعد اس معاہدے کی مالی معاونت ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس کے علاوہ لیبیا کی نیشنل آرمی کے ساتھ تقریباً 4 ارب ڈالر کے ایک اور ممکنہ دفاعی معاہدے پر بھی غیر یقینی صورتحال پیدا ہوگئی ہے کیونکہ سعودی عرب اپنی علاقائی حکمت عملی پر نظر ثانی کررہا ہے۔
یہ پیش رفت نہ صرف پاکستان کی دفاعی برآمدات بلکہ خطے کی بدلتی ہوئی سفارتی اور اسٹریٹجک ترجیحات کو بھی ظاہر کرتی ہے۔