آئی ایم ایف پروگرام کے تحت مرتب بجٹ جون کے پہلے ہفتے میں پیش کرنے کی تیاریاں

image

پاکستان آئندہ مالی سال کا وفاقی بجٹ جون کے پہلے ہفتے میں پیش کرنے کی تیاری کر رہا ہے، جس میں اہم معاشی فیصلوں کی سمت واضح ہوگئی ہے۔

ذرائع کے مطابق بجٹ کو انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ پروگرام کے مطابق ترتیب دیا جا رہا ہے تاکہ مالی نظم و ضبط کو یقینی بنایا جاسکے اور جاری قرض پروگرام کی شرائط پوری کی جا سکیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ حکومت ایک طرف آئی ایم ایف کی شرائط پر عملدرآمد کرے گی تو دوسری جانب عوام کو محدود ریلیف دینے کی بھی کوشش کی جا رہی ہے۔

بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دینے کی تجویز زیر غور ہے، جبکہ سپر ٹیکس میں مرحلہ وار کمی کا امکان ہے، تاہم اس حوالے سے حتمی فیصلہ آئی ایم ایف سے مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔

ٹیکس نظام میں بڑی اصلاحات کی تجویز بھی سامنے آئی ہے، جس کے تحت مختلف شعبوں میں دی گئی انکم ٹیکس اور سیلز ٹیکس چھوٹ ختم کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔

حکام کے مطابق نئے ٹیکس استثنیٰ نہیں دیے جائیں گے، حتیٰ کہ اسپیشل اکنامک زونز کو بھی اس سے مستثنیٰ نہیں رکھا جائے گا اور ماضی میں دی گئی رعایتیں بھی واپس لی جا سکتی ہیں۔

مزید برآں ایکسپورٹ زونز میں تیار کردہ مصنوعات کی مقامی مارکیٹ میں فروخت پر پابندی لگانے کی تجویز ہے، جبکہ نئے اکنامک زونز کے قیام کو بھی فی الحال محدود رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

توانائی کے شعبے میں بجلی اور گیس کی قیمتوں میں باقاعدہ اور بروقت اضافہ لازمی قرار دینے کی تجویز ہے، جس پر آئی ایم ایف کی جانب سے بھی زور دیا گیا ہے، جس سے سبسڈی میں کمی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

سماجی تحفظ کے حوالے سے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے مستحقین کے وظیفے میں اضافہ تجویز کیا گیا ہے۔ رقم میں 5 ہزار روپے اضافے کے بعد یہ 14 ہزار 500 روپے سے بڑھ کر 19 ہزار 500 روپے ہو جائے گی، تاہم حتمی ادائیگی دستیاب وسائل کے مطابق کی جائے گی۔

ٹیکس وصولیوں کو بہتر بنانے کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے آڈٹ نظام کو مزید مضبوط اور مرکزی بنایا جائے گا، جبکہ 2027 تک پاکستان ریگولیٹری رجسٹری کے قیام کا منصوبہ بھی شامل ہے تاکہ ضوابط کو مؤثر بنایا جا سکے۔

حکومت زرمبادلہ کی پابندیوں میں مرحلہ وار نرمی کا ارادہ بھی رکھتی ہے، جس سے کاروباری اعتماد میں اضافہ اور مالیاتی نظام میں بہتری کی توقع کی جا رہی ہے۔

مجموعی طور پر آئندہ بجٹ میں ایک توازن قائم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جہاں ایک طرف آئی ایم ایف کی شرائط پوری کی جائیں گی اور دوسری جانب عوام کو محدود ریلیف فراہم کیا جائے گا، تاہم اس کے ساتھ سخت مالیاتی کنٹرول اور ساختی اصلاحات کا عندیہ بھی دیا گیا ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US