خاموش خطرہ ہائی بلڈ پریشر، ماہرین کا بروقت چیک اپ اور احتیاطی تدابیر پر زور

image

بلڈ پریشر کے حوالے سے طبی ماہرین نے ایک بار پھر خبردار کیا ہے کہ ہائیپر ٹینشن اکثر خاموشی سے بڑھنے والی وہ کیفیت ہے جو ابتدائی مرحلے میں واضح علامات ظاہر نہیں کرتی، لیکن وقت کے ساتھ یہ دل کے امراض، فالج اور گردوں کی خرابی جیسے سنگین مسائل کا باعث بن سکتی ہے۔ اسی لیے ماہرین اسے ایک خطرناک مگر نظر نہ آنے والی بیماری قرار دیتے ہیں۔

ڈاکٹروں کے مطابق بلڈ پریشر کی باقاعدہ جانچ دل کی صحت کو محفوظ رکھنے کا ایک آسان اور مؤثر طریقہ ہے، لیکن اس کی ضرورت ہر شخص کے لیے ایک جیسی نہیں ہوتی۔ صحت مند افراد جن کا بلڈ پریشر عام طور پر نارمل رہتا ہے، انہیں سال میں ایک یا دو مرتبہ چیک اپ کافی سمجھا جاتا ہے۔

اس کے برعکس ایسے افراد جو ذیابیطس، موٹاپے یا دل کے امراض میں مبتلا ہیں، انہیں زیادہ توجہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ ماہرین ان مریضوں کو ہفتے میں کم از کم ایک بار بلڈ پریشر چیک کرنے کا مشورہ دیتے ہیں، جبکہ وہ افراد جن میں ہائی بلڈ پریشر پہلے سے تشخیص ہو چکا ہو، انہیں گھر پر روزانہ نگرانی کرنی چاہیے تاکہ ادویات کے اثرات کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے۔

صحت کے ماہرین یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ بلڈ پریشر چیک کرنے کا وقت اور طریقہ درست ہونا بہت ضروری ہے۔ عام طور پر صبح کا وقت بہتر سمجھا جاتا ہے، جب نہ ناشتہ کیا گیا ہو اور نہ ہی دوا لی گئی ہو۔ شام کے وقت بھی پیمائش کی جا سکتی ہے، لیکن ہر بار ایک جیسے حالات میں ریڈنگ لینا زیادہ درست نتائج دیتا ہے۔

چیک اپ سے پہلے کم از کم پانچ منٹ آرام سے بیٹھنا ضروری ہے۔ اس دوران چائے، کافی، سگریٹ یا ورزش کے فوراً بعد پیمائش سے گریز کرنا چاہیے کیونکہ یہ عوامل ریڈنگ کو متاثر کر سکتے ہیں۔ اسی طرح بلڈ پریشر لیتے وقت سیدھے بیٹھنا، کمر کو سہارا دینا اور پاؤں زمین پر رکھنا درست نتائج کے لیے اہم ہے۔ بازو کو دل کی سطح کے برابر رکھنا بھی ضروری سمجھا جاتا ہے۔

ماہرین یہ بھی بتاتے ہیں کہ مثانہ خالی ہونا چاہیے کیونکہ اس کا بھراؤ بھی وقتی طور پر بلڈ پریشر میں اضافہ کر سکتا ہے۔ اگر کسی فرد کی ریڈنگ مسلسل 140/90 سے زیادہ آئے تو اسے نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ اس کے ساتھ اگر سر درد، چکر، سینے میں درد یا سانس لینے میں دشواری محسوس ہو تو فوری طبی مشورہ لینا ضروری ہے۔

گھر میں مشین نہ ہونے کی صورت میں صحت مند افراد کو ہر چھ سے بارہ ماہ بعد ڈاکٹر سے معائنہ کروانا چاہیے، جبکہ زیادہ خطرے والے افراد کے لیے تین سے چھ ماہ کا وقفہ بہتر سمجھا جاتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف نگرانی کافی نہیں، بلکہ روزمرہ زندگی میں تبدیلی بھی ضروری ہے۔ کم نمک والی غذا، پھلوں اور سبزیوں کا استعمال، باقاعدہ چہل قدمی یا ورزش دل کی صحت کو بہتر رکھنے میں مدد دیتی ہے۔ یوگا اور گہری سانس لینے کی مشقیں بھی بلڈ پریشر کو متوازن رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ وزن پر قابو رکھنا، سگریٹ نوشی اور الکحل سے پرہیز بھی بنیادی احتیاطی اقدامات میں شامل ہیں۔

طبی ماہرین کے مطابق باقاعدہ جانچ اور صحت مند طرزِ زندگی اپنانا دل کی سنگین بیماریوں سے بچاؤ کا بہترین راستہ ہے، اور اکثر معاملات میں بروقت احتیاط بڑے خطرات کو روک سکتی ہے۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US