امریکا اور ایران کے درمیان متوقع مذاکرات کے پیش نظر وفاقی دارالحکومت میں سیکیورٹی صورتحال میں نرمی کردی گئی ہے۔
انتظامیہ کے مطابق ریڈ زون کے سوا بیشتر شاہراہیں ٹریفک کے لیے کھول دی گئی ہیں، جبکہ جڑواں شہر راولپنڈی میں بھی ضلعی حکام نے پشاور روڈ پر قائم بس اسٹینڈز کی بند سروسز بحال کردی ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں مذاکرات کے دوسرے مرحلے کے لیے تمام انتظامات مکمل کرلیے گئے ہیں اور ایرانی و امریکی وفود کی آمد متوقع ہے۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مذاکرات کا آغاز بدھ کی شب ہوگا۔
رپورٹس کے مطابق پاکستان کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں دونوں ممالک اسلام آباد میں مذاکرات کی میز پر بیٹھیں گے۔ امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ نائب صدر جے ڈی وینس کی سربراہی میں تین رکنی امریکی وفد شرکت کرے گا۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ممکنہ پیش رفت کے حوالے سے امید کا اظہار کیا ہے، تاہم انہوں نے خبردار کیا ہے کہ جنگ بندی کی مدت بدھ کی شام ختم ہورہی ہے اور اس میں توسیع کا امکان نہیں۔
دوسری جانب ایرانی قیادت نے واضح کیا ہے کہ وہ دباؤ یا دھمکیوں کے ماحول میں مذاکرات قبول نہیں کرے گی۔