آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے سائٹ ایسوسی ایشن آف انڈسٹری کا دورہ کیا، جہاں ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ، ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا اور ایس ایس پی کیماڑی سنگھار ملک بھی ان کے ہمراہ تھے۔ اس موقع پر تاجر برادری نے آئی جی سندھ کو اسٹریٹ کرائم، بھتہ خوری اور امن و امان کے حوالے سے درپیش مسائل سے آگاہ کیا۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آئی جی سندھ نے سائٹ کو پاکستان کا سب سے بڑا صنعتی زون قرار دیا اور مینوفیکچرنگ سیکٹر کے فروغ کے لیے امن و امان کی بہتری کو ناگزیر قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اسٹریٹ کرائم کراچی کا پرانا مسئلہ رہا ہے جس پر مجموعی طور پر قابو پا لیا گیا ہے، تاہم سائٹ کے چند متاثرہ علاقوں میں مزید اقدامات کیے جائیں گے۔ کراچی کی غیر منظم توسیع اور بہتر پلاننگ کی کمی کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شہر میں ایکسپریس وے کی کمی کی وجہ سے ٹریفک کے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔
آئی جی سندھ نے انکشاف کیا کہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں پر چند ماہ میں 50 کروڑ روپے کے جرمانے جمع کیے گئے ہیں۔ انہوں نے ٹریفک کی بہتری کے لیے مزید ایڈوانس کیمرے نصب کرنے کا اعلان بھی کیا تاکہ حادثات اور جرائم میں کمی لائی جاسکے۔ غیر قانونی تجاوزات کے حوالے سے انہوں نے ہارڈ انکروچمنٹ کے لیے کمشنر کراچی سے رجوع کرنے کا مشورہ دیا جبکہ سافٹ انکروچمنٹ کے خاتمے کے لیے ڈی آئی جی ساؤتھ کو فوری ہدایات جاری کیں۔
آئی جی سندھ نے کہا کہ کراچی میں عوام کو "پینک بٹن" کی سہولت میسر کریں گے۔
آئی جی سندھ نے جرائم کی ایک مثال دیتے ہوئے بتایا کہ شہر میں ایک گھریلو ملازمہ 18 بنگلوں میں ڈکیتی کی وارداتوں میں ملوث پائی گئی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ مقامی مینوفیکچرنگ میں بہتری اور بیرون ملک سے سرمایے کی واپسی پاکستان کی معیشت کو مستحکم کرسکتی ہے۔