گرمی کی شدت بڑھتے ہی شہریوں نے ایئرکنڈیشنرز کا استعمال شروع کردیا ہے، تاہم دیکھا گیا ہے کہ کئی ماہ بند رہنے کے باعث اکثر اے سی کی کولنگ متاثر ہوجاتی ہے اور گیس کم ہونے کی شکایات سامنے آتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق بروقت صفائی اور دیکھ بھال نہ صرف کارکردگی بہتر بناتی ہے بلکہ اضافی اخراجات سے بھی بچاتی ہے۔
سردیوں میں اے سی کے بند رہنے کے بعد جب گرمی کا آغاز ہوتا ہے تو بیشتر گھروں میں اے سی درست طریقے سے ٹھنڈک فراہم نہیں کر پاتے۔ خصوصاً کراچی سمیت ملک کے مختلف شہروں میں فروری سے ہی گرمی کی شدت محسوس کی جا رہی ہے، جس کے باعث شہری دن رات اے سی استعمال کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اے سی کی بروقت سروس نہ کی جائے تو اس میں جراثیم جمع ہو سکتے ہیں جو صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں، خاص طور پر دمہ اور الرجی کے مریضوں کے لیے خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
گھر میں اے سی کی سروس خود کرنا ایک سستا اور مؤثر طریقہ قرار دیا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ہر تین ماہ بعد فلٹر تبدیل کرنا چاہیے جبکہ مہینے میں کم از کم ایک بار فلٹرز کی صفائی ضروری ہے۔ اگر اس عمل کو نظرانداز کیا جائے تو فلٹرز گندے ہو کر نہ صرف ناقص ہوا خارج کرتے ہیں بلکہ کوائل کو بھی نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
مزید برآں، گندے فلٹرز کے باعث بجلی کے بل میں 5 سے 15 فیصد تک اضافہ ہوسکتا ہے اور اے سی کے پورے نظام کی عمر بھی کم ہو سکتی ہے۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ اے سی کے فلٹرز نسبتاً سستے ہوتے ہیں اور انہیں آسانی سے تبدیل کیا جا سکتا ہے۔