پاکستان میں ایران-امریکا مذاکرات کی بحالی سے متعلق سفارتی کوششوں کا جائزہ اجلاس وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت منعقد ہوا۔
وزیراعظم نے امید ظاہر کی کہ ایران اور امریکا کو جلد دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے میں پیش رفت ہو سکتی ہے اور پاکستان اس عمل میں اپنا مثبت کردار جاری رکھے گا۔
اجلاس میں خطے کی مجموعی صورتحال اور ممکنہ سفارتی پیش رفت پر غور کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار سمیت اعلیٰ حکام نے شرکت کی جنہوں نے مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ سے ہونے والے رابطوں پر بریفنگ دی۔
اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ خطے میں امن و استحکام کے لیے مذاکرات ہی واحد مؤثر راستہ ہیں جبکہ پاکستان سفارتی کوششوں کو مزید فعال رکھنے کے عزم پر قائم ہے۔
دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے کثیرالجہتی اور سفارت کاری برائے امن کے عالمی دن (24 اپریل 2026) پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ عالمی امن کے قیام کے لیے مذاکرات، تعاون اور پرامن حل ناگزیر ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ حکومت پاکستان اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں کے مطابق تنازعات کے پرامن حل، باہمی تعاون اور مؤثر سفارت کاری کے لیے اپنے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں جب دنیا کو پیچیدہ سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے، پاکستان علاقائی اور عالمی امن و سلامتی کے فروغ کے لیے مکالمے اور سفارت کاری کے راستے کو ترجیح دے رہا ہے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ خطے میں پاکستان کی جاری ثالثی کوششیں بھی انہی اصولوں کی عکاس ہیں، جبکہ پاکستان اقوام متحدہ کے چارٹر سے اپنی مستقل وابستگی کے تحت اختلافات کے خاتمے اور عالمی ہم آہنگی کے فروغ میں تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا۔