کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے بالنگ کوچ سہیل تنویر نے لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹیم کی ہار کی ذمہ داری کھلاڑیوں کے ساتھ مینجمنٹ پر بھی عائد ہوتی ہے، کیونکہ ٹیم مشترکہ کوشش کرنے میں ناکام رہی اور صرف پیچز میں پرفارمنس دی گئی۔
انہوں نے کہا کہ کبھی بیٹرز تو کبھی بالرز نے اچھا کھیل دکھایا لیکن تسلسل کی کمی رہی، تاہم جب تک ٹورنامنٹ میں امیدیں باقی ہیں، ہم جیتنے کی بھرپور کوشش کریں گے حالانکہ اب کوئٹہ کے آگے جانے کا انحصار دوسری ٹیموں کے نتائج پر ہے۔
سہیل تنویر کا مزید کہنا تھا کہ جدید کرکٹ میں بلے بازوں نے اپنی اسکلز کو بالرز کے مقابلے میں زیادہ بہتر کرلیا ہے اور اب ایسے بلے آچکے ہیں جن سے باؤنڈری لگانا آسان ہوگیا ہے، اس لیے بالرز کو ڈیتھ اوورز میں بہتری کے لیے اپنی صلاحیتوں پر کام کرنا ہوگا۔
کھلاڑیوں کے انتخاب کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ کسی کو بھی ایک میچ یا ایک ٹورنامنٹ کی بنیاد پر جج نہیں کرنا چاہیے بلکہ دو تین سال کی کارکردگی اور پاتھ وے کی بنیاد پر موقع دینا چاہیے۔
انہوں نے کوئٹہ کے محمد حمزہ اور پشاور زلمی کے علی رضا کو باصلاحیت قرار دیتے ہوئے خواجہ نافع کی شمولیت کو ٹیم پلان کا حصہ قرار دیا۔