کراچی میں جرائم کی بڑھتی ہوئی وارداتوں کے دوران ایک اور افسوسناک واقعہ سامنے آیا ہے جہاں رات گئے ڈیوٹی انجام دینے والے ایک فوڈ ڈیلیوری رائیڈر کو اسلحے کے زور پر لوٹ لیا گیا۔ ملزمان نہ صرف نقدی اور قیمتی سامان لے گئے بلکہ اس کے پاس موجود کھانے کا آرڈر بھی چھین کر فرار ہوگئے۔
متاثرہ نوجوان جو کہ داؤد یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کا طالبعلم ہے، نے بتایا کہ وہ رات کے وقت ڈیلیوری کے سلسلے میں نکلا ہوا تھا کہ نامعلوم مسلح افراد نے اسے روک لیا۔
ملزمان نے اسلحہ تان کر جان سے مارنے کی دھمکیاں دیں اور اس کا موبائل فون، نقد رقم، بٹوہ، اے ٹی ایم کارڈز، شناختی دستاویزات اور کھانے کا آرڈر سب کچھ چھین کر فرار ہوگئے۔
متاثرہ طالبعلم نے واقعے کے بعد ٹیپو سلطان تھانے میں رپورٹ درج کرادی ہے اور حکام سے اپیل کی ہے کہ اس کے لوٹے گئے سامان کی بازیابی اور ملزمان کی گرفتاری کو یقینی بنایا جائے۔
ذرائع کے مطابق نوجوان کا تعلق عمرکوٹ سے ہے اور وہ اپنی تعلیم کے اخراجات پورے کرنے کے لیے رات کی شفٹ میں کام کرتا ہے۔ اس واقعے کے بعد وہ نہ صرف مالی طور پر شدید متاثر ہوا ہے بلکہ ذہنی دباؤ کا بھی شکار ہے، جبکہ اس کے اہل خانہ کو بھی سخت پریشانی کا سامنا ہے۔
نوجوان نے کہا کہ جس وقت واقعہ ہوا مجھے ایسا لگا کہ سب کچھ ختم ہوگیا، اب بچ نہیں سکتے لیکن اللہ نے جان بچالی۔
شہری حلقوں نے اس واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ شہر میں بڑھتی ہوئی اسٹریٹ کرائم کی وارداتوں پر فوری قابو پایا جائے اور محنت کش افراد کو تحفظ فراہم کیا جائے تاکہ وہ بلا خوف و خطر اپنی ذمہ داریاں انجام دے سکیں۔