ٹرمپ پر حملے کی کوشش کرنے والا کون؟ پوری تفصیل سامنے آگئی

image

واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے صحافیوں کی سالانہ تقریب کے دوران فائرنگ کرنے کے الزام میں گرفتار ملزم کی شناخت کے حوالے سے پوری تفصیل سامنے آگئی ہے، جس کے بعد تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کردیا گیا ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی رپورٹ کے مطابق 31 سالہ حملہ آور کا نام کول ٹامس ایلن ہے اور اس کا تعلق ریاست کیلیفورنیا سے بتایا جا رہا ہے۔ وہ لاس اینجلس کے قریب واقع علاقے ٹورنس کا رہائشی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملزم کو اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ واشنگٹن ہلٹن ہوٹل کے بال روم کی سمت فائرنگ کرتے ہوئے تیزی سے آگے بڑھ رہا تھا۔ موقع پر موجود سیکیورٹی اہلکاروں نے فوری ردعمل دیتے ہوئے اسے قابو کرلیا اور ممکنہ بڑے نقصان کو ٹال دیا۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق کول ٹامس ایلن کسی عام مجرم کی طرح نہیں بلکہ ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ شخص ہے جو انجینئرنگ اور تدریس کے شعبوں سے وابستہ رہا ہے۔

قانون نافذ کرنے والے حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ملزم اسی ہوٹل میں بطور مہمان قیام پذیر تھا جہاں یہ تقریب منعقد ہورہی تھی، تاہم اس کے اقدام کے اصل محرکات ابھی تک واضح نہیں ہوسکے۔

سوشل میڈیا اور پیشہ ورانہ پلیٹ فارمز سے حاصل معلومات کے مطابق ملزم کا تعلیمی پس منظر غیر معمولی طور پر مضبوط ہے۔ اس نے 2017 میں کیلیفورنیا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (کالٹیک) سے مکینیکل انجینئرنگ میں ڈگری حاصل کی، جبکہ 2025 میں کمپیوٹر سائنس میں ماسٹرز مکمل کیا۔

ادارے کی جانب سے بھی تصدیق کی گئی ہے کہ اس نام کا ایک طالب علم 2017 میں وہاں سے فارغ التحصیل ہوا تھا۔

پیشہ ورانہ اعتبار سے وہ خود کو مکینیکل انجینئر اور کمپیوٹر سائنسدان قرار دیتا ہے، جبکہ تجربے کے لحاظ سے گیم ڈیولپمنٹ اور تدریس سے بھی وابستہ رہا ہے۔ وہ ایک نجی تعلیمی ادارے میں جز وقتی استاد کے طور پر کام کر رہا تھا اور دسمبر 2024 میں اسے بہترین کارکردگی پر ٹیچر آف دی منتھ کا اعزاز بھی دیا گیا تھا۔

اس کی پروفائل میں ایک نجی کمپنی میں بطور مکینیکل انجینئر ملازمت اور کالٹیک میں ٹیچنگ اسسٹنٹ کے طور پر خدمات انجام دینے کا بھی ذکر موجود ہے۔ اس نے اپنی دلچسپیوں میں صرف سائنس اور ٹیکنالوجی کو شامل کیا ہے، جبکہ ایک پرانے اخباری تراشے میں اس کی ٹیم کی جانب سے روبوٹکس مقابلہ جیتنے کا حوالہ بھی ملتا ہے۔

واشنگٹن ڈی سی کی میئر موریل باؤزر نے تازہ صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ ملزم اس وقت قریبی اسپتال میں زیر علاج ہے اور سخت سیکیورٹی میں رکھا گیا ہے۔

امریکی اٹارنی جنرل ٹوڈ بلانچ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ملزم کے خلاف قانونی کارروائی تیزی سے جاری ہے اور جلد اس پر فرد جرم عائد کردی جائے گی۔ حکام کے مطابق اس پر فائرنگ، غیر قانونی اسلحہ رکھنے سمیت دیگر سنگین الزامات کے تحت مقدمہ چلایا جائے گا۔

دوسری جانب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شفافیت کے پیش نظر سوشل میڈیا پر ملزم کی تصویر اور سیکیورٹی کیمروں کی وہ ویڈیوز بھی جاری کی ہیں جن میں فائرنگ کا آغاز دکھائی دیتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عوام کو حقائق سے آگاہ رکھنا ضروری ہے تاکہ کسی قسم کی غلط فہمی پیدا نہ ہو۔

تحقیقاتی ادارے اب اس پہلو کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا یہ حملہ کسی منظم سازش کا حصہ تھا یا ملزم نے یہ قدم انفرادی طور پر اٹھایا۔ فی الحال وہ پولیس کی تحویل میں ہے اور اسپتال سے فارغ ہونے کے بعد اسے جیل منتقل کر دیا جائے گا۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US