امریکی حکام کے مطابق کول ٹوماس ایلن نے وائٹ ہاؤس میں کورسپونڈینٹس ڈنر کے دوران فائرنگ سے تقریباً 10 منٹ قبل اپنے اہلِ خانہ کو ایک پیغام ارسال کیا تھا جس میں اس نے سیاسی اور انتظامی شخصیات کو نشانہ بنانے کے ارادے کا اشارہ دیا۔
نیویارک پوسٹ کے مطابق ملزم نے اپنے پیغام میں مختلف سماجی اور سیاسی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے سخت جذباتی اور اشتعال انگیز زبان استعمال کی۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس کے پیغام سے اس کے مبینہ ارادوں کا ابتدائی اشارہ ملتا ہے۔
ابتدائی تفتیش کے مطابق ملزم نے پولیس کو دیے گئے بیان میں سیکیورٹی انتظامات پر بھی سوالات اٹھائے اور دعویٰ کیا کہ موقع پر حفاظتی اقدامات ناکافی تھے۔ اس نے یہ بھی کہا کہ اگر کوئی غیر ملکی ایجنٹ ہوتا تو زیادہ خطرناک ہتھیار بھی اندر لے جایا جا سکتا تھا۔
حکام کے مطابق ملزم کے قبضے سے متعدد ہتھیار برآمد ہوئے تھے جن میں ہینڈ گنز اور شاٹ گن شامل ہیں، جبکہ وہ پہلے بھی شوٹنگ رینج میں مشق کرتا رہا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ابتدائی معلومات کے مطابق اس واقعے کا ایران سے براہِ راست تعلق ثابت نہیں ہوا، تاہم تحقیقات جاری ہیں اور تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔