آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ کی تیاریوں کے سلسلے میں ترقیاتی پروگرام (پی ایس ڈی پی) سے متعلق تجاویز پر کام جاری ہے، جبکہ حکومت نے نئے ترقیاتی منصوبوں کے لیے آئی ایم ایف کو 10 فیصد تک فنڈز مختص کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔
ذرائع کے مطابق مالی گنجائش کی کمی کے باعث آئندہ مالی سال بھی ترقیاتی بجٹ محدود رکھنے کی تجویز زیر غور ہے۔ وزارت خزانہ نے پی ایس ڈی پی کے لیے 3 ہزار ارب روپے مختص کرنے کی تجویز کو مسترد کردیا ہے۔
حکام کے مطابق مختلف وزارتوں اور ڈویژنز کی جانب سے 300 سے زائد نئے ترقیاتی منصوبوں کے لیے اضافی فنڈز کی درخواست کی گئی ہے، جن کی مجموعی لاگت تقریباً 7 ہزار ارب روپے تک پہنچتی ہے۔
وزارت منصوبہ بندی کے حکام کا کہنا ہے کہ آئندہ مالی سال میں جاری ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کو ترجیح دی جائے گی۔ رواں مالی سال کے لیے پی ایس ڈی پی کا حجم 1000 ارب روپے رکھا گیا تھا، جبکہ 1100 سے زائد منصوبوں کی مجموعی لاگت 13 ہزار ارب روپے سے تجاوز کرچکی ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جولائی سے اپریل تک ترقیاتی منصوبوں پر 450 ارب روپے سے زائد خرچ کیے جاچکے ہیں، جبکہ پی ایس ڈی پی منصوبوں کا مجموعی تھرو فارورڈ تقریباً ایک ہزار ارب روپے بتایا جارہا ہے۔