وزیر مملکت برائے صحت مختار احمد بھرتھ نے خبردار کیا ہے کہ اگر آبادی میں تیزی سے اضافے کو قابو نہ کیا گیا تو 2050 تک پاکستان کی آبادی 50 کروڑ تک پہنچ سکتی ہے، جو ملکی وسائل پر شدید دباؤ کا باعث بنے گی۔
اسلام آباد میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آبادی میں بے ہنگم اضافہ ایک ”سیلاب“ کی مانند ہے، جس کے آگے بند نہ باندھا گیا تو یہ وسائل کو بہا لے جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس چیلنج سے نمٹنا صرف حکومتی اقدامات سے ممکن نہیں بلکہ عوام کو بھی ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔
وزیر مملکت نے بتایا کہ گزشتہ 20 سے 50 برس کے دوران شہری آبادی میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ ان کے مطابق اسلام آباد کی آبادی 4 لاکھ سے بڑھ کر تقریباً 40 لاکھ تک جا پہنچی ہے، جبکہ لاہور اور کراچی جیسے بڑے شہروں میں بھی بے ہنگم آبادی کے باعث انتظامی مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت دیہی علاقوں میں سہولیات کی فراہمی پر کام کر رہی ہے تاکہ شہروں پر دباؤ کم کیا جاسکے۔
مختار احمد بھرتھ نے کہا کہ معاشی ترقی کی رفتار بڑھانے کے لیے آبادی کی شرح میں کمی ناگزیر ہے، بصورت دیگر عوام کو خوراک، تعلیم اور صحت جیسی بنیادی سہولیات کی فراہمی مشکل ہوجائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان آبادی کے لحاظ سے دنیا کا پانچواں بڑا ملک ہے اور ہر سال تقریباً 60 لاکھ بچوں کی پیدائش ہوتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بچوں کی پیدائش میں مناسب وقفہ نہ صرف ماں بلکہ پورے خاندان کی صحت کے لیے ضروری ہے، جبکہ ملک میں بچوں میں غذائی کمی (اسٹنٹنگ) کی بڑی وجہ بھی آبادی میں تیز رفتار اضافہ ہے۔
دوسری جانب چند روز قبل وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے ایک ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ حکومت آئی ایم ایف کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔ ان کے مطابق اگر رعایت مل گئی تو پیٹرولیم لیوی میں اضافہ نہیں کیا جائے گا، بصورت دیگر حکومت کو پیٹرول یا ڈیزل پر 50 سے 55 روپے فی لیٹر تک لیوی بڑھانے کا فیصلہ کرنا پڑسکتا ہے۔