امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے قریبی مشیروں کو ہدایت دی ہے کہ ایران کے خلاف ایک طویل المدتی اقتصادی اور بحری ناکہ بندی کی منصوبہ بندی کی جائے۔ ایک امریکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے زور دیا کہ ایران کی معیشت اور خاص طور پر تیل کی برآمدات پر مسلسل دباؤ برقرار رکھا جائے تاکہ تہران کی مالی طاقت کو محدود کیا جا سکے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ ایرانی بندرگاہوں کی سرگرمیوں اور وہاں سے گزرنے والی بحری آمدورفت کو روکنے کے امکانات پر غور کر رہی ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ براہِ راست فوجی کارروائی شروع کرنا یا اچانک تنازع سے علیحدگی اختیار کرنا، دونوں ہی آپشنز، ناکہ بندی برقرار رکھنے کے مقابلے میں زیادہ خطرناک ہو سکتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ حکمت عملی ایران کو بتدریج کمزور کرنے کے لیے زیادہ مؤثر ہو سکتی ہے۔
ایک اور بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران خود یہ عندیہ دے چکا ہے کہ وہ شدید دباؤ اور ممکنہ تباہی کے قریب پہنچ چکا ہے۔ اس بیان نے خطے میں جاری کشیدگی کے حوالے سے مزید خدشات کو جنم دیا ہے۔
دوسری جانب امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کی جانب سے جنگ بندی کے لیے پیش کی گئی حالیہ تجاویز کو قبول کرنے کے حامی نظر نہیں آتے۔ امریکی میڈیا کے مطابق تہران نے ایک ایسا منصوبہ پیش کیا تھا جس کے تحت آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی تجویز دی گئی جبکہ جوہری پروگرام سے متعلق معاملات کو آئندہ مذاکرات تک مؤخر کرنے کا کہا گیا۔
اسی تناظر میں یہ پیش رفت بھی سامنے آئی کہ جنگی صورتحال کے تقریباً دو ماہ بعد مائع قدرتی گیس کی پہلی کھیپ آبنائے ہرمز عبور کرتے ہوئے خلیج فارس سے باہر نکلنے میں کامیاب ہوئی۔ امریکی خبر رساں ادارے بلوم برگ نے جہازوں کی نقل و حرکت کے ڈیٹا کے حوالے سے بتایا کہ ’مبارز‘ نامی ٹینکر بھارت کے جنوبی ساحل کے قریب دیکھا گیا جو اس اہم بحری راستے کی جزوی بحالی کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔