وزیر دفاع خواجہ آصف نے شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے دفاع اجلاس میں افغان سرزمین کے استعمال سے ہونے والی دہشت گردی کو پاکستان کا سب سے بڑا سیکیورٹی چیلنج قرار دے دیا۔
کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں اجلاس کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ کالعدم تنظیمیں، خصوصاً تحریک طالبان پاکستان اور بلوچستان لبریشن آرمی، افغان علاقے کو پاکستان اور اس کے شہریوں کے خلاف حملوں کیلیے استعمال کر رہی ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ افغان سرزمین پر موجود دہشت گرد عناصر کے خلاف قابلِ اعتماد، قابلِ تصدیق اور مؤثر کارروائی ناگزیر ہوچکی ہے۔
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ خطے میں امن و استحکام الزام تراشی، نفرت انگیز سیاست یا اندرونی سیاسی مقاصد کیلیے استعمال ہونے والی بیان بازی سے حاصل نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے شفافیت، اعتماد سازی اور باہمی تعاون کو فروغ دینے پر زور دیا۔
وزیر دفاع نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی قربانیوں اور کامیابیوں کو نظرانداز کرنا حقائق سے چشم پوشی کے مترادف ہے۔ ان کے مطابق پاکستان نے محض نعروں پر انحصار نہیں کیا بلکہ عملی اقدامات کے ذریعے دہشت گردی کا مقابلہ کیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان نے اپنی بے مثال قربانیوں اور واضح نتائج کے ذریعے انسداد دہشت گردی کیلئے اپنے ذمہ دارانہ عزم کو ثابت کیا ہے، اور خطے کی سلامتی کیلیے اس کا کردار ناقابلِ فراموش ہے۔
اجلاس کے موقع پر خواجہ آصف نے چین، قازقستان اور تاجکستان کے وزرائے دفاع سے ملاقاتیں بھی کیں، جبکہ ایران کے نائب وزیر دفاع سے بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ان ملاقاتوں میں علاقائی سلامتی اور دہشت گردی کے خلاف مشترکہ حکمت عملی پر زور دیا گیا۔