خیبرپختونخوا کے ضلع شانگلہ کی تحصیل چکیسر کے ایک دور افتادہ گاؤں میں اس وقت غیر معمولی مناظر دیکھنے میں آئے جب نصف صدی بعد ایک شخص اپنے گھر لوٹا۔ امیر احمد کی واپسی نہ صرف ایک خاندان بلکہ پورے علاقے کے لیے جذباتی لمحہ بن گئی، جہاں ان کے استقبال کے لیے گلیاں سجائی گئیں اور پھول نچھاور کیے گئے۔
امیر احمد تقریباً 1975 میں شادی کے محض ڈیڑھ ماہ بعد روزگار کی تلاش میں کراچی روانہ ہوئے تھے۔ ابتدا میں انہوں نے تعمیراتی شعبے میں شیٹرنگ کا کام کیا اور باقاعدگی سے گھر پیسے بھیجتے رہے، تاہم ایک حادثے نے ان کی زندگی کا رخ بدل دیا۔ شیٹرنگ کے سامان میں آگ لگنے سے ہونے والے نقصان کی ذمہ داری ان پر ڈال دی گئی، جس کے نتیجے میں وہ لاکھوں روپے کے قرض تلے دب گئے۔
قرض اور معاشرتی طعنوں کے خوف نے انہیں گھر واپسی سے روک دیا۔ پشتون معاشرے میں ’پیغور‘ یعنی طعنہ زنی کو شدید سماجی دباؤ سمجھا جاتا ہے، اور اسی خوف نے امیر احمد کو اپنوں سے دور رکھا۔ وہ مسلسل محنت مزدوری کرتے رہے اور وقت کے ساتھ جوانی بڑھاپے میں بدل گئی، جبکہ خاندان والے برسوں تک ان کی تلاش میں سرگرداں رہے مگر کوئی سراغ نہ ملا۔
کراچی میں طویل عرصہ گزارنے کے دوران انہوں نے مختلف محنت طلب کام کیے اور بالآخر ایک ہسپتال میں چوکیدار کی ملازمت اختیار کر لی۔ ادھر ان کے والدین اور قریبی عزیز ایک ایک کر کے دنیا سے رخصت ہو گئے جبکہ ان کی نئی نویلی دلہن نے پانچ دہائیوں تک ان کا انتظار جاری رکھا۔
حال ہی میں فالج کے حملے نے اس طویل جدائی کا خاتمہ کر دیا۔ بیماری کے باعث جب انہیں سہارا درکار ہوا تو مقامی افراد نے ان کی ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر شیئر کی، جس میں انہوں نے اپنے خاندان کا تعارف کروایا۔ یہ ویڈیو وائرل ہو کر بالآخر ان کے اہلِ خانہ تک پہنچ گئی، جس کے بعد ان کے بھائی کراچی پہنچے اور انہیں واپس گاؤں لے آئے۔
گاؤں واپسی پر ان کا شاندار استقبال کیا گیا، جس میں اہلِ علاقہ کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔ پھولوں کی پتیاں نچھاور کی گئیں، ہار پہنائے گئے اور ان کی واپسی پر خصوصی گیت بھی پیش کیے گئے۔ یہ منظر اس بات کی عکاسی کر رہا تھا کہ بچھڑنے کے باوجود رشتوں کی ڈور کبھی ٹوٹتی نہیں۔
پچاس برس بعد گھر لوٹنے پر امیر احمد جذبات پر قابو نہ رکھ سکے۔ انہوں نے اپنی اہلیہ کی وفاداری پر حیرت اور شرمندگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر انہیں معلوم ہوتا کہ ان کی بیوی ان کا انتظار کر رہی ہے تو وہ کبھی اتنے برس دور نہ رہتے۔ ان کے مطابق یہ واپسی ایسے ہے جیسے زندگی کو دوبارہ موقع مل گیا ہو تاہم وہ اس بات کا اعتراف بھی کرتے ہیں کہ ماضی کی غلطیوں کو اب بدلا نہیں جا سکتا۔