ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے کہا ہے کہ ایران سپریم لیڈر کے احکامات کے تحت مذاکرات جاری رکھے ہوئے ہے اور متعلقہ قیادت کو مختلف تجاویز پیش کی جاچکی ہیں۔
اپنے بیان میں ابراہیم عزیزی کا کہنا تھا کہ مذاکرات سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی ہدایات کے مطابق کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اہم امور پر تجاویز تیار کر کے اعلیٰ قیادت کے سامنے رکھ دی گئی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف ذاتی طور پر مذاکراتی عمل کی نگرانی کر رہے ہیں، جس سے اس عمل کی اہمیت اور سنجیدگی کا اندازہ ہوتا ہے۔
دوسری جانب ایرانی مذاکراتی وفد کے رکن پروفیسر سید محمد مرندی نے کہا ہے کہ امریکی سینیٹر جے ڈی وینس کو مذاکرات کے دوران حتمی فیصلوں کا اختیار حاصل نہیں تھا۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پروفیسر مرندی کا کہنا تھا کہ جے ڈی وینس مذاکرات کے دوران بار بار فون کالز کرتے رہے، جبکہ امریکی مذاکراتی ٹیم نے بھی مختلف شخصیات سے مسلسل رابطے کیے۔
انہوں نے کہا کہ جنگ کے دوران عوامی حمایت انتہائی اہم رہی اور اگر عوام کا ساتھ نہ ہوتا تو کامیابی ممکن نہ تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام نے جنگ کے دوران فوج کا بھرپور ساتھ دیا جس کے باعث دشمن کے حملوں کو ناکام بنایا جاسکا۔