بھارت کے ساتھ مبینہ فضائی جھڑپوں میں پاک فضائیہ کی جانب سے چینی ساختہ طیاروں کے استعمال اور رافیل سمیت بھارتی جنگی طیاروں کے نقصان کے دعوؤں کے بعد چینی دفاعی صنعت کی عالمی سطح پر طلب میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ امریکی جریدے بلوم برگ کی رپورٹ کے مطابق اس صورتحال نے چینی طیارہ ساز کمپنیوں کی کارکردگی اور فروخت پر براہِ راست اثر ڈالا ہے۔
بلوم برگ کی رپورٹ کے مطابق چینی طیارہ ساز کمپنی اے وی آئی سی چینگڈو ایئرکرافٹ کارپوریشن کی رواں سال کی پہلی سہ ماہی میں فروخت تقریباً دوگنی ہو گئی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ سال کمپنی کی مجموعی آمدنی میں 16 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 11 ارب ڈالرز تک پہنچ گئی، جبکہ کمپنی کا منافع 6.5 فیصد بڑھ کر اپنی تاریخ کی بلند ترین سطح پر ریکارڈ کیا گیا۔
جریدے کے مطابق کمپنی کے سنگل انجن ملٹی رول J-10 لڑاکا طیارے گزشتہ سال مئی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی کشیدگی کے دوران استعمال کیے گئے۔ اس دوران دعویٰ کیا گیا کہ پاکستانی فضائیہ نے ان طیاروں کے ذریعے فرانسیسی ساختہ رافیل سمیت متعدد بھارتی جنگی طیارے مار گرائے تھے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ تنازع ان چند مواقع میں سے ایک تھا جہاں جدید چینی ہتھیاروں کا حقیقی جنگی حالات میں عملی تجربہ سامنے آیا۔
بھارتی حکام کی جانب سے بھی اس دوران طیاروں کے نقصان کا اعتراف کیا گیا تھا تاہم تباہ ہونے والے طیاروں کی حتمی تعداد کے بارے میں تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔