بھارت میں امریکہ کے خلاف عوامی جذبات بتدریج شدت اختیار کر رہے ہیں جہاں حالیہ عالمی اور علاقائی حالات نے اس رجحان کو مزید تقویت دی ہے۔
خاص طور پر ایران سے متعلق کشیدگی اور عالمی توانائی بحران کے اثرات نے بھارتی معیشت کو متاثر کیا، جس کے نتیجے میں عام شہریوں کی مشکلات میں اضافہ ہوا اور امریکہ کے بارے میں رائے عامہ مزید منفی ہوتی جا رہی ہے۔
حالیہ دنوں میں اس کشیدگی کو اس وقت مزید ہوا ملی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر بھارت کے بارے میں سخت اور توہین آمیز ریمارکس دیے، جنہیں نئی دہلی نے فوری طور پر مسترد کرتے ہوئے "نامناسب" قرار دیا۔
بھارتی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایسے بیانات دونوں ممالک کے دیرینہ تعلقات کی حقیقی عکاسی نہیں کرتے جو باہمی احترام اور مشترکہ مفادات پر مبنی رہے ہیں۔
دوسری جانبنریندر مودی کی قیادت میں بھارتی حکومت نے اس معاملے پر محتاط سفارتی رویہ اپنایا ہے، تاہم پسِ پردہ عوامی سطح پر بے چینی بڑھتی جا رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ صورتحال کسی ایک واقعے کا نتیجہ نہیں بلکہ گزشتہ ایک سال کے دوران ہونے والی متعدد پیش رفتوں کا مجموعہ ہے۔
ان میں سب سے نمایاں امریکہ کی جانب سے بھارتی مصنوعات پر بھاری درآمدی محصولات کا نفاذ ہے، جس نے نہ صرف برآمدات کو متاثر کیا بلکہ کاروباری طبقے میں بھی اضطراب پیدا کیا۔
مزید برآں ویزا پالیسیوں میں سختی، خاص طور پر ایچ ون بی ویزا پروگرام میں پابندیاں، بھی بھارتی نوجوانوں اور پیشہ ور افراد کے لیے تشویش کا باعث بنی ہیں۔
ایران سے متعلق تنازعے نے اس صورت حال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ توانائی کی سپلائی متاثر ہونے کے باعث بھارت میں ایندھن کی قلت اور قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا، جس سے عام آدمی کی زندگی براہ راست متاثر ہوئی۔ ماہرین کے مطابق روپے کی قدر میں کمی، اسٹاک مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ اور سپلائی چین میں خلل نے عوامی بے چینی کو بڑھایا ہے۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ ماضی میں بھارت کے دائیں بازو کے حلقے، جو نظریاتی طور پر امریکی پالیسیوں سے ہم آہنگ سمجھے جاتے تھے، اب خاموش مایوسی کا شکار دکھائی دیتے ہیں۔ کاروباری برادری، جو پہلے امریکہ کو ایک قابل اعتماد شراکت دار سمجھتی تھی، اب اپنے معاشی نقصانات کے باعث زیادہ محتاط اور تنقیدی رویہ اختیار کر رہی ہے۔
میڈیا کے کردار میں بھی واضح تبدیلی دیکھی جا رہی ہے۔ جہاں پہلے امریکی پالیسیوں اور قیادت کے لیے نرم گوشہ پایا جاتا تھا، اب مرکزی دھارے کے میڈیا اور حکومتی حامی حلقوں میں بھی تنقیدی آوازیں سنائی دے رہی ہیں۔ سوشل میڈیا پر بھی ایسے بیانیے سامنے آ رہے ہیں جو امریکہ کو ایک غیر متوقع اور بعض اوقات نقصان دہ عالمی طاقت کے طور پر پیش کرتے ہیں۔
اس کے باوجود سفارتی سطح پر دونوں ممالک تعلقات کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں کیونکہ معاشی، دفاعی اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں باہمی انحصار بدستور موجود ہے۔
تاہم ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر عوامی سطح پر یہ منفی رجحان اسی طرح بڑھتا رہا تو طویل المدتی تعلقات پر اس کے اثرات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکے گا۔
مجموعی طور پر بھارت میں امریکہ کے بارے میں بدلتی ہوئی سوچ اس بات کی عکاس ہے کہ عالمی سیاست کے فیصلے اب براہ راست عوامی زندگیوں پر اثر انداز ہو رہے ہیں، اور یہی عنصر مستقبل میں بین الاقوامی تعلقات کی سمت متعین کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔