سفری پابندیوں کا اختیار بحال: شہری آزادیوں پر نئی بحث شروع

image

پاکستان کی وفاقی آئینی عدالت نے ایک اہم فیصلے میں حکومت کو شہریوں پر سفری پابندیاں عائد کرنے کا اختیار دوبارہ دے دیا ہے۔

اس فیصلے کے تحت ریاست کو یہ حق حاصل ہو گیا ہے کہ وہ افراد کے نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کرے اور ضرورت پڑنے پر ان کے پاسپورٹ منسوخ بھی کر سکے۔

ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت پہلے سے محدود شہری آزادیوں پر مزید اثرانداز ہو سکتی ہے اور اس سے بنیادی حقوق کے حوالے سے نئی بحث نے جنم لیا ہے۔

یہ فیصلہ اس پس منظر میں سامنے آیا ہے جب لاہور ہائی کورٹ نے گزشتہ سال دسمبر میں ایک درخواست پر حکومت کو شہریوں کے پاسپورٹ منسوخ کرنے اور ان پر سفری پابندیاں لگانے سے روک دیا تھا۔

عدالتِ عالیہ کے اس حکم کے خلاف حکومت نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ غیر قانونی ہجرت اور انسانی اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے ایسے اختیارات ناگزیر ہیں۔ اب آئینی عدالت نے حتمی فیصلہ آنے تک حکومت کا یہ اختیار عارضی طور پر بحال کر دیا ہے۔

پاکستان میں ماضی میں متعدد ایسے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں جہاں ایسے افراد کو بھی بیرونِ ملک سفر سے روکا گیا جو کسی واضح قانونی خلاف ورزی میں ملوث نہیں تھے۔

ان افراد کے نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کر دیے جاتے ہیں جو ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے مختلف ہے کیونکہ اس میں شامل افراد کے پاسپورٹ یا تو غیر فعال ہو جاتے ہیں یا مکمل طور پر منسوخ کر دیے جاتے ہیں۔

انسانی حقوق کے کارکنوں، صحافیوں اور ان کے اہل خانہ کی ایک بڑی تعداد اس وقت ایسی پابندیوں کا سامنا کر رہی ہے۔ ان افراد کا کہنا ہے کہ عدالتوں سے ریلیف حاصل کرنا نہایت مشکل ہو چکا ہے کیونکہ کیسز میں تاخیر اور محدود پیش رفت عام ہے۔

بعض متاثرین کے مطابق ان کے خلاف مقدمات بھی کمزور یا بے بنیاد ہوتے ہیں لیکن اس کے باوجود ان کے نام فہرستوں میں شامل رہتے ہیں۔

متاثرہ افراد میں صحافی اور ادبی شخصیات بھی شامل ہیں، جو نہ صرف قانونی مسائل کا سامنا کر رہے ہیں بلکہ انہیں سفر کے دوران گرفتاری کا خدشہ بھی لاحق رہتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنے نام فہرستوں سے نکلوانے کے لیے عدالتوں سے رجوع تو کرتے ہیں، مگر کامیابی کی امید کم ہی ہوتی ہے۔

قانونی ماہرین کے مطابق حالیہ عدالتی اور آئینی تبدیلیوں کے بعد عدالتی نظام سے فوری اور مؤثر ریلیف حاصل کرنا مزید مشکل ہو گیا ہے۔ بعض وکلا کا ماننا ہے کہ عدالتوں کی فعالیت پہلے ہی محدود تھی، مگر اب صورتحال مزید پیچیدہ ہو چکی ہے جس سے انصاف کے حصول پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔

یہ معاملہ صرف ان افراد تک محدود نہیں جو براہِ راست تنقید یا اختلافی رائے رکھتے ہیں بلکہ بعض اوقات ان کے قریبی رشتہ دار بھی ان پابندیوں کی زد میں آ جاتے ہیں۔ کئی کیسز میں متاثرین کو یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ ان پر پابندی کیوں عائد کی گئی ہے، اور نہ ہی انہیں بروقت قانونی وضاحت فراہم کی جاتی ہے۔

مجموعی طور پر یہ فیصلہ ایک اہم قانونی موڑ کی حیثیت رکھتا ہے، جو ریاستی اختیارات اور شہری آزادیوں کے درمیان توازن کے سوال کو مزید نمایاں کر رہا ہے۔

حتمی عدالتی فیصلہ آنے تک یہ بحث جاری رہنے کا امکان ہے کہ آیا ایسے اقدامات واقعی قومی مفاد کے لیے ضروری ہیں یا یہ شہری حقوق پر غیر ضروری قدغن کا باعث بن رہے ہیں۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US