وائٹ ہاؤس کوریسپونڈنٹس ڈنر کے موقع پر پیش آنے والے مبینہ حملے کی تحقیقات نے ایک نیا رخ اختیار کرلیا ہے، جب مرکزی ملزم کی وہ سیلفیاں سامنے آئیں جو اس نے کارروائی سے کچھ دیر پہلے لی تھیں۔ یہ تصاویر امریکی محکمۂ انصاف کی جانب سے عدالت میں جمع کرائی گئی دستاویزات میں شامل ہیں، جنہوں نے کیس کی سنگینی کو مزید واضح کردیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق 31 سالہ کول ایلن ان تصاویر میں سیاہ لباس اور سرخ ٹائی میں نظر آ رہا ہے۔ اس کے ساتھ ایک نیام میں رکھا چاقو، کندھے پر بندھا ہولسٹر اور ایک بیگ بھی موجود ہے، جس کے بارے میں شبہ ظاہر کیا گیا ہے کہ اس میں گولہ بارود رکھا گیا تھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ تصاویر ہفتے کی رات تقریباً آٹھ بج کر تین منٹ پر لی گئیں، یعنی اس وقت جب مبینہ حملے میں صرف چند منٹ باقی تھے۔
تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ملزم نے حملے سے قبل صدر اور خاتونِ اول کی سرگرمیوں پر گہری نظر رکھی ہوئی تھی۔ اس نے مختلف ویب سائٹس اور میڈیا رپورٹس کے ذریعے ان کی نقل و حرکت کا جائزہ لیا، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس کا منصوبہ اچانک نہیں بلکہ پہلے سے تیار کیا گیا تھا۔
مزید انکشاف ہوا کہ ملزم نے حملے سے پہلے کچھ ای میلز بھی تیار کیں، جن میں اس نے اپنے ارادوں کا ذکر کیا تھا۔ ان ای میلز کو 25 اپریل کی رات ایک مخصوص وقت پر بھیجنے کے لیے شیڈول کیا گیا تھا، جو اسی وقت کے قریب تھا جب وہ ہتھیاروں کے ساتھ سیکیورٹی چیک پوائنٹ کی جانب بڑھ رہا تھا۔
امریکی اسسٹنٹ اٹارنی چارلس جونز کے مطابق اگر یہ منصوبہ کامیاب ہوجاتا تو اس کے نتائج نہایت خطرناک ہوسکتے تھے اور یہ واقعہ ملکی تاریخ کے اہم اور سنگین واقعات میں شمار ہوتا۔ عدالت میں پیش کی گئی دیگر تصاویر میں ملزم کے قبضے سے برآمد ہونے والے ہتھیار بھی دکھائے گئے ہیں، جن میں ایک ہینڈ گن اور شاٹ گن شامل ہیں۔
حکام نے ملزم کے خلاف متعدد سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا ہے، جن میں صدر کو نشانہ بنانے کی کوشش، مختلف ریاستوں کے درمیان اسلحہ منتقل کرنا اور پرتشدد جرم کے دوران فائرنگ جیسے الزامات شامل ہیں۔ یہ معاملہ اب قانونی مراحل میں داخل ہوچکا ہے، جہاں مزید شواہد اور گواہیوں کی روشنی میں اس کی نوعیت کا تعین کیا جائے گا۔