امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ بندی کے مستقبل پر سوال اٹھاتے ہوئے ایران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائی کا اشارہ دے دیا۔ اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بظاہر جنگ بندی ختم کرنے کی ضرورت نہیں تاہم ایسا ممکن بھی ہو سکتا ہے۔
امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی پہلے شروع ہونی چاہیے تھی اور امریکا نے ایران کی 90 فیصد میزائل فیکٹریاں تباہ کر دی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پابندیاں مؤثر ثابت ہو رہی ہیں اور ایران کی معیشت شدید دباؤ میں ہے جبکہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا۔
انہوں نے ایرانی قیادت کو غیر یقینی قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہاں اصل فیصلہ ساز کون ہے یہ واضح نہیں۔ ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایران معاہدہ کرنے کے لیے بے تاب ہے۔
گفتگو کے دوران انہوں نے پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان جنگ رکوانے میں کردار ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس تنازع میں کئی طیارے تباہ ہوئے اور لاکھوں جانیں خطرے میں تھیں۔
ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ایران کے ساتھ تنازع ختم ہوتے ہی تیل و گیس کی قیمتوں میں فوری کمی آ سکتی ہے جبکہ آبنائے ہرمز کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ امریکا کو اس راستے پر انحصار نہیں کیونکہ اس کے پاس وافر توانائی وسائل موجود ہیں۔