امریکا کی جانب سے 28 فروری کو ایران پر کیے گئے حملے میں سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای اور اہم فوجی کمانڈرز کی ہلاکت کے بعد خطے میں کشیدگی نئی سطح پر پہنچ گئی ہے، جس کے بعد ایران کی دفاعی حکمت عملی ’موزیک دفاع‘ ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔
امریکی حملے کے بعد ایران میں دفاعی ردعمل کا آغاز ہوا جسے ’موزیک دفاع‘ کہا جاتا ہے۔ یہ حکمت عملی دراصل بقا کی جنگ کا دوسرا نام ہے، جس کا مقصد کسی بڑی طاقت کے خلاف براہِ راست فتح کے بجائے اسے اس حد تک نقصان پہنچانا ہے کہ وہ جنگ جاری رکھنے سے گریز کرے۔
ایران کی یہ دفاعی حکمت عملی ایرانی عسکری شخصیت محمد علی جعفری نے تیار کی تھی، جس کے تحت فوجی طاقت کو مرکزی کمان کے بجائے مختلف علاقائی یونٹس میں تقسیم کیا گیا ہے۔
اس نظام میں اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی)، بسیج فورس، باقاعدہ فوجی یونٹس، میزائل فورسز اور بحری دستے ایک غیر مرکزی مگر مربوط دفاعی نیٹ ورک کے طور پر کام کرتے ہیں۔
آئی آر جی سی کو 31 صوبائی کمانڈز میں تقسیم کیا گیا ہے، جہاں ہر صوبہ اپنی سطح پر انٹیلی جنس، اسلحہ اور کمانڈ کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس حکمت عملی کے تحت اگر مرکزی قیادت یا رابطہ نظام متاثر بھی ہو جائے تو مقامی یونٹس خودمختار انداز میں کارروائیاں جاری رکھ سکتے ہیں۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق عسکری ماہر ڈاکٹر مائیکل کونال کا کہنا ہے کہ اس دفاعی ڈھانچے کا بنیادی مقصد ایران کے نظام کو اس قدر پھیلا دینا ہے کہ اسے مکمل طور پر ناکارہ بنانا انتہائی مشکل ہو جائے۔